تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کا سب سے مضبوط زینہ ہیں۔ تاریخ کی اکثر اعلیٰ ترین کامیابیاں معمولی حالات کے اندر ہی سے برآمد ہوئی ہیں۔ تعلیم کی طرف بی بی سی لندن کے اردو شعبہ کی ایک ٹیم نے انڈیا کی ریاست گجرات کا دورہ کیا۔ وہاں اس نے خاص طور پر گجرات کے مسلمانوں سے ملاقات کی اور اس موضوع پر ایک رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ میں نے 22 جولائی 2004ء کو بی بی سی لندن کے نشر یہ میں سنا۔ اس نشر یہ میں بتایا گیا تھا کہ ریاست میں پچھلے فرقہ وارانہ فساد فروری۔ مارچ 2002ء کے بعد گجرات کے مسلمانوں میں بڑے پیمانہ پر ایک نیا رجحان پیدا ہوا ہے۔ اب یہاں کا ہر مسلمان تعلیم کے بارے میں سوچتا ہے۔ ہر ایک یہ کہہ رہا ہے کہ اپنے بچوں کو پڑھاؤ۔ یہ ایک نیا رجحان ہے۔ 1947ء کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں مسلسل طور پر ایک ہی ذہن پایا جارہا تھا۔ وہ تھا شکایت اور احتجاج کی نفسیات کا شکار ہونا، نیز تشدد کا جواب تشدد سے دینا۔ نصف صدی سے زیادہ مدت کے تجربہ کے بعد یہ نظریہ ناکام ثابت ہوا۔ اب پہلی بار مسلمانوں میں یہ طرز فکر پیدا ہوا ہے کہ جوابی ذہن کے تحت سوچنا اور ماضی کے تلخ تجربوں میں جینا ایک بے فائدہ کام ہے۔ اب وہ پہلی بار پیچھے کو بھلا کر آگے کی طرف سوچ رہے ہیں۔ وہ انتقام کے بجائے تعمیر کا نظریہ اپنا رہے ہیں۔ اس جدید رجحان کو ایک جملہ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے ۔ ماضی کو بھلاؤ، بچوں کو پڑھاؤ۔ 1947ء کے بعد پیش آنے والے ناخوش گوار واقعات کے نتیجہ میں تمام ہندوستانی مسلمان رد عمل کی نفسیات کے شکار ہو گئے تھے۔ راقم الحروف نے پہلی بار مسلمانوں کو یہ بتانا شروع کیا کہ زندگی کا راز مثبت سوچ میں ہے، نہ کہ منفی سوچ میں۔ 1965ء میں یہ کوشش میں نے لکھنؤ کے ہفت روزہ ندائے ملت کے ذریعہ شروع کی۔ اس کے بعد 1967ء سے یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader