Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

کام دہلی کے ہفت روزہ الجمعیۃ کے ذریعہ جاری رہا۔ اس کے بعد 1976ء میں میں نے دہلی سے ماہنامہ الرسالہ جاری کیا، پھر زیادہ منظم انداز میں اس کام کو کرنے لگا۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف اخبارات اور جرائد میں مسلسل اس کی تائید میں مضامین شائع کیے۔ پورے ملک میں سفر کر کے جلسوں اور اجتماعات کی صورت میں اس ثبت پیغام کو مسلمانوں تک پہنچایا۔ یہ نقطہ نظر مسلمانوں کے لیے اجنبی تھا۔ ایک عربی مثل ہے: الناس اعداء ماجہلوا (لوگ اس چیز کے دشمن بن جاتے ہیں، جس سے وہ بے خبر ہیں)۔ چنانچہ ابتدائی طور پر مسلمانوں میں اس کی مخالفت شروع ہو گئی۔ وہ صبر اور اعراض کے نظریہ کو دشمن کی چال سمجھنے لگے۔ مگر مسلسل تجربے کے بعد اب ان کی آنکھ کھل گئی ہے۔ اب نہ صرف گجرات بلکہ سارے ملک میں مسلمانوں کا ذہن بدل چکا ہے۔ وہ جان چکے ہیں کہ دوسروں کو الزام دینا سراسر بے فائدہ کام ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ساری طاقت خود اپنے تعمیر و استحکام پر لگائی جائے۔ یہ بلاشبہ ایک صحت مند رجحان ہے۔ سائنسی انقلاب کے بعد دنیا میں مکمل طور پر ایک نیا دور آ گیا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ تلوار میں طاقت ہے (ہر کہ شمشیر زند سکہ بہ نامش خوانند)۔ مگر اب ہر باشعور آدمی جانتا ہے کہ طاقت کا راز علم ہے۔ پہلے اگر دنیا میں صاحب شمشیر لوگوں کا غلبہ ہوتا تھا، تو اب دنیا میں غلبہ ان لوگوں کے لیے مقدر ہو چکا ہے، جو صاحب علم ہوں۔ آخری بات آپ کا ایک لڑکا ہے۔ آپ اس کو کامیاب ڈاکٹر دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کیا کریں گے۔ آپ اس کو اسکول میں داخل کریں گے۔ بیالوجی کے ساتھ ہائی اسکول کرائیں گے۔ پھر بی ایس سی کرائیں گے۔ پھر اس کو ایم بی بی ایس کے کورس میں داخل کریں گے۔ پھر آپ کی کوشش یہ ہوگی کہ اس کو ایف آرسی ایس کرنے کے لیے لندن بھیجیں۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہی آپ یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page