Urdu book · تربیتِ اولاد

آخری بات

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

سے دنیا میں اپنی جگہ بنائے۔ آپ میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کرے گا کہ وہ اپنے لڑکے کو یوں ہی چھوڑ دے کہ وہ کھیلتا کودتا رہے۔ اس کے بعد جب وہ 25 برس کا ہو جائے تو اس کا باپ اس کو ڈاکٹر بنانے کے حق میں پرجوش تقریریں شروع کر دے، وہ حکومت کو تار بھیجے کہ میرے لڑکے کو اسپتال میں سرجن مقرر کرو۔ یا یہ کہ اس کو پس ماندہ قرار دے کر ڈگری کے بغیر ڈاکٹر تسلیم کر لو۔ آپ میں سے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ ڈاکٹر بننے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا لڑکا تعلیمی اور تربیتی کورس کو پورا کرے۔ محض مطالبہ کرنے سے کوئی شخص کبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ یہ دنیا استحقاق کی دنیا ہے، مطالبات کی دنیا نہیں۔ یہ دنیا مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ دوسروں کی طرف سے آپ کو تلخ تجربات پیش آئیں گے، اپنوں کی طرف سے بھی اور غیروں کی طرف سے بھی۔ وہ شخص نادان ہے جو تلخیوں کی یاد میں جئے ۔ دانشمند وہ ہے جو تلخ یادوں کو بھلائے اور صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مستقبل کی تعمیر میں وقت لگا دے۔ تعلیم کا مقصد صرف سروس حاصل کرنا نہیں ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو باشعور بنایا جائے۔ اس دنیا میں سارے مسائل کی جڑ بے شعوری ہے، اور سارے مسائل کا حل یہ ہے کہ لوگ باشعور ہوں۔ وہ مسائل کی حقیقی نوعیت کو سمجھیں ۔ وہ حالات کا بے لاگ تجزیہ کر سکیں ۔ وہ اس بات کو جانیں کہ دنیا میں کیا چیز قابلِ حصول ہے، اور وہ کیا چیز ہے جو سرے سے قابلِ حصول ہی نہیں۔ تعلیم آدمی کو بے شعوری سے نکالتی ہے اور اس کے اندر شعور کی صفت پیدا کرتی ہے۔ اس دنیا کی تمام کامیابیاں بلاشبہ تعلیم یافتہ انسان کے لیے مقدر ہیں۔ تعلیم کے بغیر کوئی ترقی ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page