Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

سوچو، منفی سوچ سے مکمل طور پر اپنے آپ کو بچاؤ۔ بری عادتوں سے اس طرح ڈرو، جس طرح کوئی شخص سانپ بچھو سے ڈرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو ڈیوٹی کانشنس بنائیں، نہ کہ رائٹ (right) کانشنس۔ سنجیدہ ہونا ضروری ہے ایک صاحب اپنے بچوں کے لیے بہت سخت تھے۔ ہمیشہ ڈانٹ کر بات کرتے تھے۔ کبھی کسی نے ان کو اپنے بچوں کے ساتھ نرمی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ لڑکے ان سے اس قدر ڈرتے تھے کہ ان کے سامنے کوئی بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ جب وہ گھر میں داخل ہوتے تو تمام بچے خاموش ہو کر ادھر اُدھر دبک جاتے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ وہ گھر میں داخل ہوئے۔ سیڑھی کو طے کر کے جب وہ اپنے مکان کی چھت پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کا ایک بچہ بجلی کے پول سے لپٹا ہوا ہے۔ بجلی کے تار میں ایک پتنگ پھنس گئی تھی۔ پتنگ کو حاصل کرنے کے شوق میں لڑکا بارجہ کا سہارا لے کر پول پر چڑھ گیا۔ ابھی اس کا کام پورا نہیں ہوا تھا کہ اس کے باپ آگئے۔ نگاہیں ملتے ہی بچہ سہم گیا مگر بالکل خلاف معمول باپ نے کوئی سخت بات نہیں کہی بلکہ نہایت نرم لہجے میں بولے’’ بیٹے تم وہاں کہاں‘‘ اس کے بعد انھوں نے محبت کے انداز میں لڑکے کو ترغیب دی کہ وہ آہستہ آہستہ اترے اور بارجہ کا سہارا لے کر دوبارہ گھر میں آجائے۔ بعد کو ایک شخص سے انھوں نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا: میں نے مسکرا کر اور نرم لہجہ میں اس لیے بات کی کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں اس نازک موقع پر ڈانٹتا ہوں تو وہ گھبرا اٹھے گا اور پول سے چھوٹ کر نیچے سڑک پر جا گرے گا۔ اس نزاکت نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنی عادت کے خلاف بچے سے میٹھے انداز میں بات کروں۔ اگر آدمی کو صورت حال کی نزاکت کا احساس ہو اور وہ اس کے لیے دردمند ہو تو اس کی دردمندی خود ہی مجبور کرے گی کہ وہ اشتعال کے بجائے برداشت کا طریقہ اختیار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page