Urdu book · تاریخ کا سبق

یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کمانڈ راس حقیقت سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا کہ اسپین کے ساحل پر اترنے کے بعد یہی کشتیاں وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے وہ اپنے مرکز سے مربوط رہ سکتا ہے۔ طارق اور موسی بن نصیر (گورنر افریقہ) کے درمیان پیغام رسانی کا دوسرا کوئی ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ یہ صرف قیاس نہیں ہے بلکہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ساحل اسپین پر اترنے اور مقابلہ پیش آنے کے درمیان تقریباً دو ماہ تک یہی کشتیاں تھیں جو دونوں کے درمیان باہمی ربط اور پیغام رسانی کا ذریعہ بنی رہیں۔ طارق جس مقام پر اترے اس کا نام قلعۃ الاسد (Lion's Rock) تھا۔ بعد کو وہ جبل الطارق (جبرالٹر) کے نام سے مشہور ہوا۔ طارق اسپین کے جس ساحل پر اترے وہ اس وقت ایک غیر آباد علاقہ تھا۔ وہاں ایک دشوار گزار پہاڑی کو جائے پناہ قرار دے کر وہ لوگ اکٹھا ہو گئے، تاکہ حالات کو سمجھ کر آئندہ کا نقشہ بنا سکیں۔ اسپین کا بادشاہ رذر یقی ان دنوں بنبلو نہ (Pamplona) کی ایک جنگ میں مشغول تھا، جہاں اس کے خلاف بغاوت ہو گئی تھی۔ اس کو جب طارق کے اسپین میں داخلہ کی خبر ملی تو اس نے حکم دیا کہ ایک لاکھ فوج جمع کی جائے تاکہ مداخلت کاروں کو باہر نکالا جا سکے۔ طارق کا جاسوسی نظام بھی کام کر رہا تھا۔ انھیں جب رذر یقی کی تیاریوں کی خبر ملی تو انھوں نے فوراً اپنا ایک قاصد موسی بن نصیر (گورنر افریقہ) کے یہاں روانہ کیا اور مزید کمک کی درخواست کی ۔ ادھر موسیٰ بھی خاموش نہ تھے۔ بلکہ مسلسل تیاریوں میں مشغول تھے ۔ چنانچہ انھوں نے کشتیوں کے ذریعہ پانچ ہزار مزید سپاہی بھیج دیے ۔ اس طرح طارق کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page