Urdu book · تاریخ کا سبق

یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے ایک قرینہ یہ ہے کہ تاریخ اندلس کی بعض قدیم کتابوں، مثلاً اخبار ’’مجموعہ فی فتح اندلس‘‘ میں یہ واقعہ سرے سے مذکور نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سمندر کو پار کر کے جب طارق بن زیاد اسپین کے ساحل پر اترے تو انھوں نے اپنے فوجیوں کو للکارا: أَيُّهَا النَّاسُ! الْعَدُوُّ أَمَامَكُمْ وَالْبَحْرُ وَرَاءَكُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ وَاللَّهِ إِلَّا الْجَلْدُ وَالصَّبْرُ اے لوگو دشمن تمھارے سامنے ہے اور سمندر تمھارے پیچھے ہے، تمھارے لیے خدا کی قسم اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ صبر کرو اور جم کر مقابلہ کرو۔ سپہ سالار کے یہ جوشیلے الفاظ سن کر لشکری چیخ اٹھے: أَنَا وَرَاءَكَ يَا طَارِقُ طارق ہم سب تمھارے ساتھ ہیں۔ تمام تاریخوں کے متفقہ بیان کے مطابق مخالف فوجوں سے مقابلہ ساحل پر اترتے ہی فوراً پیش نہیں آیا تھا۔ قیاس یہ ہے کہ یہ تقریر بعد کو اس وقت کی گئی ہے جب کہ عملًا مقابلہ پیش آیا ہے۔ اور فتح اندلس کے بعد جب تقریر کے الفاظ ”سمندر تمھارے پیچھے ہے“ لوگوں میں عام ہوئے تو قصہ گویوں نے اس میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیا کہ یہ تقریر کشتیوں کو جلانے کے بعد کی گئی تھی۔ شاید ان کے نزدیک سمندر کے پیچھے ہونے کے لیے ضروری تھا کہ سمندر اور فوجیوں کے درمیان سے کشتیوں کو ہٹایا جا چکا ہو! وائلیس کے دور سے ایک ہزار سال پہلے سمندر پار کے ملک میں اترنے والا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page