یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے آئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں گے ۔ اس لیے مقابلہ کے وقت اس خبیث کوزک دینے کے لیے ہم کو خود شکست کھاجاناچاہیے۔ رذریق کی فوج کے ایک حصہ نے نہایت سخت جنگ کی ۔ مگر غیر مطمئن فوجیوں نے جنگ میں زور نہیں دکھایا۔ بالآخر شکست ہوئی اور رزریق میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد وہ نہ زندہ مل سکا، نہ مردہ۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگنے کے دوران وہ ایک دلدل میں پھنس کر مر گیا۔ اسپین کے بعض علاقوں کو طارق نے فتح کیا۔ بعض کو مغیث رومی نے، بعض کو موسی بن نصیر نے، جو بعد کو 18 ہزار فوج کے ساتھ اندلس میں داخل ہوئے تھے۔ رعایا کی اپنے بادشاہ اور سرداروں سے بیزاری کی وجہ سے ان کو خود اسپینیوں میں مدد گار اور جاسوس ملتے چلے گئے۔ تمام مورخین لکھتے ہیں کہ غیر مسلم جاسوسوں نے اسپین کی ابتدائی فتوحات میں بہت مدد کی تھی۔ خدا کی یہ دنیا کوئی طلسماتی کارخانہ نہیں ہے۔ یہ نہایت محکم اصولوں پر قائم ہے۔ یہاں کوئی واقعہ ان قوانین سے مطابقت کرنے کے نتیجہ ہی میں ظاہر ہوتا ہے جن پر دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ جو شخص یا قوم اپنے لیے کوئی حقیقی مستقبل دیکھنا چاہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ فطرت کی اصل بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو خدا کی اس دنیا میں اس کا کوئی انجام نہیں۔ خواہ اپنے طور پر وہ اپنے بارے میں کتناہی زیادہ خوش فہمی میں مبتلا رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader