اقدام سے پہلے تحقیق ضروری
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
امام ترمذی مرۃ بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا حال بیان کیا جو آپ کے بعد آئیں گے۔ اتنے میں ایک صاحب سامنے سے گزرے جو کپڑا لپیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: ھٰذَا یَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدٰى یعنی، شخص اس دن حق پر ہوگا۔ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ وہ عثمان بن عفان ہیں۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 4037) حضرت عثمان نے اپنے مال سے مشکل وقتوں میں اتنی زیادہ اسلام کی مدد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَللّٰهُمَّ إِنِّي قَدْ رَضِيتُ عَنْ عُثْمَانَ فَارْضَ عَنْهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 441)۔ یعنی، اے اللہ میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔ ایک بار حضرت عثمان کے ایثار و قربانی سے آپ اتنا خوش ہوئے کہ دعا کا یہ کلمہ دن بھر آپ کی زبان سے نکلتا رہا۔ تاہم یہی عثمان بن عفان تھے جن کے خلاف ان کی خلافت کے بعد کے سالوں میں سارے ممالک اسلامی میں شورش برپا ہوگئی۔ اس شورش کے پیدا کرنے میں متعدد مخلص اور مقدس لوگ بھی شریک تھے۔ یہ شورش اتنی بڑھی کہ ہزاروں کی تعداد میں بلوائی مختلف ملکوں سے جمع ہو کر مدینہ میں گھس گئے۔ انھوں نے حضرت عثمان کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔ آپ کے گھر میں پانی کا داخلہ روک دیا۔ آپ کے لیے مسجد نبوی میں جا کر نماز پڑھنا ناممکن بنا دیا۔ جب شدت بہت بڑھی تو آپ اپنے مکان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader