Urdu book · تاریخ کا سبق

اقدام سے پہلے تحقیق ضروری

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول "تین سواونٹ مع کجا وہ اور پالان کے اللہ کے راستہ میں "۔ راوی کہتے ہیں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر پڑے۔ اور آپ کی زبان پر یہ کلمہ جاری تھا: "مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ، مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ" (سنن الترمذی، حدیث نمبر (4033)۔ اس کے بعد عثمان جو بھی کریں ان پر کوئی مواخذہ نہیں۔ اس کے بعد عثمان جو بھی کریں ان پر کوئی مواخذہ نہیں۔ امام ترمذی انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں ۔ حدیبیہ میں جب بیعت رضوان ہوئی، اس وقت عثمان بن عفان رسول اللہ کے سفیر کی حیثیت سے مکہ گئے ہوئے تھے ۔ جب تمام لوگ بیعت ہو چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عثمان اس وقت اللہ اور اس کے رسول کے کام پر ہیں"، پھر آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور خود اپنے ایک ہاتھ سے اپنے دوسرے ہاتھ پر عثمان کے لیے بیعت کی: فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ (صحیح بخاری، حدیث نمبر (3699) ۔ یعنی، پس عثمان کے لیے رسول اللہ کا ہاتھ لوگوں کے لیے ان کے اپنے ہاتھ سے بہتر تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page