اقدام سے پہلے تحقیق ضروری
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
نِعْمَ. قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ شَهَدُوا لِي وَرَبِّ الكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ، ثَلَاثًا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3707) ۔ یعنی، شمامہ بن حزن القشیری کہتے ہیں ۔ عثمان بن عفان کے محاصرہ کے وقت، میں ان کے گھر کے پاس موجود تھا۔ وہ مکان کے اوپر چڑھے اور لوگوں سے کہا: میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دلاتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے اور یہاں صرف ایک (یہودی کا) کنواں بئر رومہ تھا جس سے میٹھا پانی لیا جا سکے (وہ بہت مہنگی قیمت پر فروخت کرتا تھا) ۔ رسول اللہ نے کہا: کون بئر رومہ کو خریدتا ہے کہ وہ بھی اس سے پانی لے اور مسلمان بھی پانی لیں۔ جنت میں اس کو اس سے بہتر ملے گا۔ میں نے (35 ہزار درہم) کے عوض اس کو خریدا۔ اور تم مجھ کو اس سے پانی پینے سے روکتے ہو۔ لوگوں نے جواب دیا: خدایا ہاں ۔ پھر عثمان بن عفان نے کہا۔ میں تم کو قسم دلاتا ہوں اللہ کی اور اسلام کی ۔ کیا تم جانتے ہو کہ مسجد نبوی تنگ پڑگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کون فلاں زمین کو خرید کر مسجد میں اضافہ کرتا ہے، جنت میں اس کو اس سے بہتر ملے گا۔ میں نے اس کو اپنے مال سے خریدا۔ اور تم مجھ کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے روکتے ہو۔ لوگوں نے کہا خدایا ہاں ۔ عثمان بن عفان نے کہا اللہ اکبر ۔ رب کعبہ کی قسم، تم لوگ گواہ رہو کہ میں شہید ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader