اقدام سے پہلے تحقیق ضروری
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
ان سب کے باوجود لوگوں نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا۔ اور قتل کرنے والے اور ان کا ساتھ دینے والے سب کے سب نماز روزہ والے تھے۔ اور اپنے کو مکمل معنوں میں مسلمان سمجھتے تھے۔ خلیفہ سوم کے خلاف اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا ہونے کی وجہ کیا تھی، جس نے بالآخر ان کی جان لے لی۔ مورخین کے بیان کے مطابق یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا۔ حضرت عثمان کی خلافت کے بارے میں بعض وجوہ سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی تھی۔ اسی بیچ میں یہ واقعہ ہوا کہ مصر کے عامل عبد اللہ بن ابی سرح کی زیادتیوں سے اہل مصر کو شکایت ہوئی ۔ لوگ مدینہ آئے اور مطالبہ کیا کہ اس کو معزول کیا جائے۔ حضرت عثمان نے حضرت علی کے مشورہ سے عبد اللہ بن ابی سرح کو معزول کر دیا۔ اور محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر کے لیے مصر کی امارت کا فرمان لکھ دیا۔ مصری اس فرمان کو لے کر اپنے ملک کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ محمد بن عبد الرحمن بھی تھے۔ راستہ میں انھوں نے دیکھا کہ حضرت عثمان کا غلام خلیفہ کے اونٹ پر سوار ہو کر تیزی سے مصر کی طرف جا رہا ہے۔ دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ وہ خلیفہ کی طرف سے ایک خط لے کر مصر کے حاکم ( عبد اللہ بن ابی سرح ) کے پاس جا رہا ہے۔ انھوں نے زبردستی کر کے غلام سے خط چھین لیا۔ اس میں لکھا تھا کہ محمد اور ان کے ساتھی مصر پہنچیں تو ان کو قتل کر دیا جائے اور تا حکم ثانی عبد اللہ بن ابی سرح مصر کا حاکم رہے۔ یہ خط حضرت عثمان کے چچا زاد بھائی مروان بن حکم نے لکھا تھا اور خلافت کی مہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader