Urdu book · تاریخ کا سبق

تمہید

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

تمہید عروج و زوال کے تاریخی قانون کو قرآن میں مختصر طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: اللہ کسی گروہ کے ما بقوم (حالت قومی) کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے ما بانفس (حالت نفسی) کو نہ بدلے (الانفال، 8:53؛ الرعد، 13:11)۔ ان آیات میں ما بانفس کی تبدیلی سے مراد وہ تبدیلی ہے جو افراد کی سطح پر ہوتی ہے۔ کیونکہ ”نفس“ افراد ہی کی سطح پر پایا جاتا ہے، نہ کہ اجتماع کی سطح پر۔ مطلب یہ ہے کہ قوموں کا زوال اس وقت ہوتا ہے جب کہ ان کے افراد میں بگاڑ آ گیا ہو۔ اسی طرح قوموں کا عروج اس وقت ہوتا ہے جب کہ افراد کی سطح پر ان میں زندگی پیدا ہو جائے۔ اس سنتِ الہی کے مطابق اصلاح قوم کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو اصلاح افراد سے شروع کیا جائے، نہ کہ انقلاب حکومت سے۔ انقلاب حکومت کے نعرہ سے کام کا آغاز گو یا کسی گروہ کے ما بقوم کو ما بقوم سے بدلنے کی کوشش کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی کوشش ایک ایسی دنیا میں نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی جس کے پیدا کرنے والے نے اس کے ما بقوم کی تبدیلی کو اس کے ما بانفس کی تبدیلی کے ساتھ جوڑ دیا ہو ۔ یہ باغ کو باغ سے نکالنے کی کوشش ہوگی۔ جب کہ اس دنیا میں باغ کو صرف بیج سے نکالا جاسکتا ہے۔ ”تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کسی نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا“۔ یہ قول جس طرح دوسری قوموں کے لیے صحیح ہے ٹھیک اسی طرح وہ ہمارے اوپر بھی صادق آتا ہے۔ ہماری طویل تاریخ ہر قسم کے سبق آموز واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ مگر ہم میں سے کوئی شخص جب کام کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو اکثر وہ انھیں ناکام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page