تمہید
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
تجربات کو دہراتا ہے جو اس سے پہلے بار بار پیش آ چکے ہیں۔ وہ تاریخ کے قانون کو جانتے ہوئے اپنے آپ کو شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سے الگ کر لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہوا ، وہ صرف دوسروں کے لیے تھا، ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔ تاریخ مسلسل طور پر یہ سبق دیتی رہی ہے کہ کوئی قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب کہ اس کے افراد میں کیریکٹر کی طاقت پیدا ہو جائے۔ مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم افراد میں کیریکٹر پیدا کیے بغیر ترقی کی طرف چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ ساری تاریخ کا فیصلہ ہے کہ قوموں کی سربلندی کا راز ابتدائی سطح پر تعمیر و استحکام ہے۔ مگر لوگ موقع ملتے ہی سیاسی ادارہ سے مقابلہ آرائی شروع کر دیتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ افراد قوم کے درمیان باہمی اتحاد، خواہ جس قیمت پر بھی ہو، باقی رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ مگر معمولی معمولی باتوں پر لوگ ایک دوسرے کے خلاف محاذ بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کہتی ہے کہ حقیقت پسندی کسی بھی کامیابی تک پہنچنے کا واحد زینہ ہے۔ مگر ہمارے رہنما نہایت بے دردی کے ساتھ قوم کو جذباتی ہنگاموں میں مشغول کر دیتے ہیں۔ ملت کو اٹھانے کا کوئی منصوبہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ ملت کے افراد کو اٹھایا جا چکا ہو ۔ ملت کی ترقی کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو بولنے سے زیادہ چپ رہنا جانتے ہوں، جو الفاظ سے زیادہ معانی کی زبان سمجھتے ہوں، جو طاقت سے زیادہ دلیل کے آگے جھکنے والے ہوں۔ جو کہنے سے زیادہ کرنا جانتے ہوں ۔ جو آگے بڑھنے سے زیادہ پیچھے ہٹنے کے بہادر ہوں۔ خلاصہ یہ کہ جو دنیا سے زیادہ آخرت کو دیکھ رہے ہوں۔ ایسے افراد کے بغیر ملت کی سربلندی کا نعرہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے دلدل کے اوپر دیوار کھڑی کرنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader