خاندانی جھگڑا تاریخ پر چھا گیا
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان جھگڑوں اور ان کے پیدا کردہ فتنوں میں دین حق گم ہو جاتا اور اللہ کے بندے قیامت تک کے لیے بے آمیز سچائی کو جاننے سے محروم ہو جاتے۔ تاریخ کی تمام کامیابیاں باہمی اتفاق کا نتیجہ ہیں اور تاریخ کی تمام ناکامیاں باہمی اختلاف کا نتیجہ ۔ انسان، خواہ ذاتی طور پر نیک اور مخلص کیوں نہ ہوں ، ان میں ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہونا بالکل ناگزیر ہے۔ کسی نہ کسی وجہ سے، حتی کہ بعض اوقات بلا وجہ بھی ، دو افراد یا دو گروہوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے اتحاد کی واحد صورت یہ ہے کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے۔ کیونکہ اختلاف سے خالی انسانی معاشرہ اس زمین پر ممکن ہی نہیں۔ وہی لوگ کوئی بڑا کام کر سکتے ہیں جو ذاتی اعتبارات پر قومی اعتبارات کو ترجیح دے سکیں۔ جو اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھا چکے ہوں کہ اختلافی باتوں کو نظر انداز کر کے ملی اتحاد پر قائم رہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے کوئی رکاوٹ، رکاوٹ نہیں بنتی ۔ کسی دشمن کی سازش یا عداوت ان کو نقصان پہنچانے والی ثابت نہیں ہوتی ۔ ان کا ہر حال میں متحد رہنا ایک ایسی طاقت بن جاتا ہے جو ہر امکانی صورت حال سے نمٹنے کی یقینی ضمانت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ ذاتی شکایتوں سے اوپر اٹھ کر سوچنا نہ جانتے ہوں ، جو ذاتی اختلافات کو اجتماعی مفاد پر قربان نہ کر سکیں ، وہ بھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے ۔ ان کی کوششیں یا تو محدود ہو کر رہ جاتی ہیں یا خود اپنے بھائیوں کو نقصان پہنچانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے وسائل اور مواقع کو اپنے اندرونی جھگڑوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader