Urdu book · تاریخ کا سبق

خاندانی جھگڑا تاریخ پر چھا گیا

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

سیاسی قضیہ کو مذہبی حیثیت دے دی اور اس امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا کہ دوسرے سیاسی جھگڑوں کی طرح یہ جھگڑا صرف وقتی نقصان پہنچائے اور بعد کی نسلوں کے لیے محض تاریخ کا موضوع بن کر رہ جائے۔ سیاست کو مذہب بنانے کی اس غلطی نے اسلام کو جو نقصانات پہنچائے ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر وضع حدیث کا فتنہ سب سے پہلے اسی محرک کے تحت شروع ہوا۔ بے شمار حدیثیں دونوں طرف سے گھڑی گئیں ۔ ایک طرف بنو ہاشم نے حضرت علی کی فضیلت میں یہ حدیث نکالی : أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا (اللآلاء المصنوعة للسيوطی، جلد 1، صفحہ 302) ۔ یعنی، میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ دوسری طرف فریق ثانی نے ایک روایت گھڑی اور کہا کہ پوری حدیث در اصل اس طرح ہے: أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَأَبُو بَكْرِ أَسَاسُهَا وَعُمَرُ حِيطَانُهَا وَعُثْمَانُ سَقْفُهَا وَعَلِيٌّ بَابُهَا (کشف الخفاء للعجلونی، جلد 1، صفحہ 232)۔ یعنی، میں علم کا شہر ہوں، ابو بکر اس کی بنیاد ہیں، عمر اس کی دیوار ہیں، عثمان اس کی چھت ہیں، علی اس کا دروازہ ہیں۔ اس قسم کی چیزوں سے اسلام کو جو عملی نقصان پہنچا، اس کی تلافی اب ممکن نہیں۔ تاہم یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنی رحمت خاص سے قرآن کو محفوظ کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page