Urdu book · تاریخ کا سبق

دو تاریخی تجربے

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

دو تاریخی تجربے سلیمان بن عبدالملک (وفات 99ھ) کی منقبت کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے خلافت راشدہ کی زریں فہرست میں پانچویں خلیفہ راشد (عمر بن عبدالعزیز) کا اضافہ کیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی اموی حکمران کے خانہ میں تاریخ ان واقعات کو بھی لکھتی ہے جن کا آخری نتیجہ ان عظیم ترین المییوں کی شکل میں برآمد ہوا، جن میں سے ایک کا نام اسپین اور دوسرے کا نام ہندوستان ہے۔ اگر سلیمان بن عبدالملک نے اسپین میں طارق کو اور ہندوستان میں محمد بن قاسم کو معتوب کر کے واپس نہ بلایا ہوتا، تو شاید ان دونوں ملکوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو بعد کے دور میں ہمیں نظر آتی ہے۔ اسپین میں کیا ہوا سلیمان بن عبدالملک نے تخت خلافت پر بیٹھنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ محض ایک ذاتی شکایت کی بنا پر موسیٰ بن نصیر (97-19ھ) گورنر افریقہ اور اس کے سالار طارق بن زیاد (فاتح اسپین) کو ان کے عہدوں سے معزول کر کے واپس بلا لیا۔ اور اول الذکر کو قید اور دوسرے کو نظر بند کر دیا۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر اسپین کی مسلم حکومت اور مرکز خلافت کے درمیان آغاز ہی میں حریفانہ جذبات پیدا ہو گئے۔ 132ھ میں جب ایک خون آشام انقلاب کے بعد دمشق کی اموی سلطنت ختم ہوئی اور نئے دارالخلافہ بغداد میں عباسی خلافت قائم ہوئی تو اموی خاندان کا ایک لٹا ہوا شہزادہ عبدالرحمن الداخل (172-113ھ) اسپین پہنچا اور وہاں کے حالات سے فائدہ اٹھا کر اسپین میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ بنو امیہ کے ایک فرد کی یہ کامیابی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page