Urdu book · تاریخ کا سبق

دو تاریخی تجربے

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

عباسیوں کے لیے نا قابل برداشت تھی۔ اس طرح اسپین اور مرکز خلافت کے درمیان رقابت کی ایک اور وجہ پیدا ہوگئی اور نتیجہتاً باہمی آویز شوں کا وہ لا متناہی سلسلہ چلا جو صرف اس وقت ختم ہوا جب اسپین میں خود مسلم سلطنت ختم ہوگئی۔ مرکزِ خلافت اور اسپین کی یہ رقابت یہاں تک بڑھی کہ جس خلافت نے طارق بن زیاد کو بھاری کمک دے کر اسپین کی مہم پر بھیجا تھا اسی خلافت نے فرانس کے بادشاہ شارلیمین کو اکسایا کہ وہ اسپین پر حملہ کرے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین میں ایک عام خانہ جنگی اور بغاوت کی کیفیت پیدا ہوگئی ہر علاقہ کا گورنر خود مختاری کا خواب دیکھنے لگا۔ امیر قرطبہ کے رشتہ داروں نے اس نازک وقت کو اسپین کے تاج و تخت کے لیے سازش کرنے کا سنہری موقع سمجھا۔ مقامی عیسائیوں کو شہ ملی کہ وہ باغی مسلمانوں کو ساتھ لے کر ہر جگہ شورش پیدا کرتے رہیں۔ اسپین کی اموی خلافت کے بعد اسپین کا ملک چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں میں تقسیم ہو گیا جنھوں نے قرطبہ، اشبیلیہ، غرناطہ، بلنیہ ،طلیطلہ، مالقا وغیرہ شہروں کو اپنا اپنا دارالحکومت بنا لیا۔ طارق بن زیاد 92ھ (711ء) میں اسپین میں داخل ہوا تھا اور 897ھ (1492ء) میں اسپین سے مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ آٹھ سو برس کی اس طویل مدت کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا جو بغاوتوں اور شورشوں سے خالی ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ اسپین کو اکثر بہت لائق مسلم حکمراں ملے، عدل و انصاف کے اعتبار سے بھی اور تمدن و سیاست کے اعتبار سے بھی، اور بلاشبہ انھوں نے مشکل حالات کے باوجود تمدن اور سیاست دانی کے اعتبار سے اسپین میں ایک عظیم تاریخ بنائی۔ مگر اندرونی حالات اور مرکزِ خلافت کی شہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page