Urdu book · تاریخ کا سبق

تعمیری حوصلے سیاسی عزائم میں تبدیل ہو گئے

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

تعمیری حوصلے سیاسی عزائم میں تبدیل ہوگئے ابو علی محمد بن علی بن مقلہ (328-272ھ) ایک غیر معمولی صلاحیت رکھنے والا فن کار تھا۔ اس نے قدیم عربی خط (خط کوفی) میں اصلاحات کر کے اس کو حسین اور جامع بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ ابتدا میں وہ عباسی حکومت کے ایک دفتر میں چھ دینار ماہوار پر منشی تھا۔ پھر اس کا فنی کمال اس کو خلیفہ کے دربار تک لے گیا۔ یہاں اس نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ مسلسل تین بادشاہوں کا وزیر بنتا رہا۔ اولاً مقتدر باللہ عباسی (328-282ھ) کا، پھر اس کے بھائی قاہر باللہ (329-322ھ) کا اس کے بعد راضی باللہ (329-297ھ) کا۔ واضح ہو کہ ”وزیر“ قدیم زمانے میں وزیر اعظم کے ہم معنی ہوتا تھا۔ کیونکہ بادشاہ کا صرف ایک وزیر ہوتا تھا اور اس کو سارے اختیارات حاصل ہوتے تھے۔ مقتدر باللہ کے ابتدائی زمانے میں حامد بن عباس وزیر تھا۔ اس کے ساتھ اس نے علی بن عیسی الجراح کو نائب وزیر بنایا تو لوگوں کو سخت تعجب ہوا۔ ایک شاعر کی نظم کا ایک شعر یہ ہے: أَعْجَبُ مِنْ كُلِّ مَارَأَيْنَا أَنْ يَكُونَ وَزِيرَينِ فِي بِلَادِ سب سے عجیب بات جو ہم نے دیکھی وہ یہ کہ ایک ملک میں دو وزیر ہیں ابن مقلہ کے یہ مناصب اس کے فن کی ترقی میں بے حد مددگار ہو سکتے تھے۔ اگر ان ملے ہوئے مواقع کو وہ فن تحریر اور اس سلسلے کی دوسری چیزوں کی ترقی اور تحقیق میں لگاتا تو نہ صرف یہ کہ عربی رسم الخط بہت پہلے اپنے معراج کمال کو پہنچ جاتا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ تحریر اور کتاب کے میدان کی بہت سی دوسری ایجادیں جو اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page