متحدہ محاذ کی سیاست
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض یہودیوں سے جنگ کے موقع پر مددی توان کے لیے مال غنیمت میں حصہ مقرر کیا۔ مگر یہ جزئی اور انفرادی تعاون کی مثالیں ہیں۔ کلی جدوجہد کے سلسلہ میں کبھی اغیار پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور پر وہ جدوجہد جو غیر "صالح حکمران" کو ہٹا کر اس کی جگہ "صالح حکمران" کو لانے کے لیے کی جائے۔ اس قسم کی سیاسی جدوجہد تمام تر جماعت صالحہ کی اپنی طاقت پر ہونا چاہیے۔ کوئی جماعت صالح اگر اپنے بل پر انقلاب لانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اس کا غیر سیاسی دائرہ عمل میں کام کرنے پر قانع رہنا، اس سے بہتر ہے کہ وہ غیر صالح عناصر کو لے کر عملی سیاست کے میدان میں کود پڑے۔ یہ غیر صالح عناصر اپنے مزاج کی بنا پر ایسا کبھی نہیں کر سکتے کہ "غیر صالح حکمران" کو بے دخل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں، اور خالی شدہ تخت کو تمام تر جماعت صالحہ کے حوالے کر دیں۔ وہ لازماً یہ چاہیں گے کہ تخت پر خود قبضہ کریں۔ اس وقت "متحدہ محاذ" کے اندر باہمی کش مکش شروع ہوگی، جو یقینی طور پر غیر صالح عناصر کے غلبہ پر ختم ہوگی۔ ساری تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader