تعمیری حوصلے سیاسی عزائم میں تبدیل ہو گئے
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
استعمال کر سکتا تھا۔ اس کے برعکس، اس نے ان مواقع کو عزت و ناموری کی طرف چھلانگ لگانے کے لیے ایک زینہ کے طور پر استعمال کیا۔ ابن مقلہ جب وزیر کے منصب پر پہنچ گیا تو اس کے ساتھ وہی حادثہ ہوا جس سے وہ لوگ بہت کم بچتے ہیں، جن کو حالات کسی بلند مقام پر پہنچا دیں ۔ اس کے فنی حوصلے اب سیاسی عزائم میں تبدیل ہو گئے ۔ خاموش تعمیری کاموں میں مشغول رہنے کے بجائے وہ سیاسی اور فوجی تحریکوں کا لیڈر بن گیا ، اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ خلیفہ قاہر باللہ کو تخت سے اتار کر ابو احمد بن مکتفی کو عباسی سلطنت کا حکمران بنایا جائے۔ راز کھل گیا۔ ابن مقلہ پر یہ الزام لگا کہ اس نے فوجی سردار مونص خادم کے ساتھ مل کر قاہر باللہ کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کی تھی۔ سازش کے انکشاف کے بعد ابن مقلہ کا گھر جلودیا گیا۔ ابو احمد بن مکتفی کو دیوار میں چن دیا گیا۔ تاہم ابن مقلہ کی ذہانت اس کے کام آئی ۔ وہ فرار ہو کر بچ گیا اور اس کے بعد پانچ لاکھ دینار خلیفہ کو نذر کر کے دوبارہ وزارت حاصل کر لی۔ مگر اس کے سیاسی عزائم نے دوبارہ اس کے لیے مسائل پیدا کیے۔ یہاں تک کہ راضی باللہ نے اس کو وزارت سے معزول کر کے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کا دایاں ہاتھ کٹوا دیا۔ بلاشبہ یہ ایک سخت ترین سزا تھی جو کسی فن کار کو دی جا سکتی تھی۔ گھر کی قید میں جو اشعار وہ پڑھا کرتا تھا۔ اس میں سے ایک شعر یہ تھا: لَيْسَ بَعْدَ الْيَمِينِ لَذَّةُ عَيْشِ يَا حَيَاتِي بَانَتْ يَمِينِي فَبِينِي دایاں ہاتھ کٹ جانے کے بعد زندگی میں کوئی لطف نہیں ، اے میری زندگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader