Urdu book · تاریخ کا سبق

تعمیری حوصلے سیاسی عزائم میں تبدیل ہو گئے

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

جب میرا دایاں ہاتھ مجھ سے جدا ہو گیا تو بھی جدا ہو گا۔ (البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، جلد 12، صفحہ 140) ابن مقلہ کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کی۔ یہاں تک کہ بائیں ہاتھ سے بھی وہ اتنا ہی اچھا لکھ لیتا تھا، جیسا وہ دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا۔ پھر اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ میں ایک قلم باندھا اور اس سے لکھنے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کٹنے سے پہلے کے خط اور ہاتھ کٹنے کے بعد کے خط میں کوئی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ یہ باکمال انسان اپنے گھر کے قید خانے میں 56 سال کی عمر میں مر گیا۔ ابن مقلہ شاعر بھی تھا۔ اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ماتم میں بہت سے اشعار موزوں کیے۔ وہ کہتا تھا: ”وہ ہاتھ جس نے قرآن کے فلاں فلاں نسخے لکھے، جس نے رسول اللہ کی فلاں فلاں حدیثیں لکھیں، جس نے مشرق و مغرب میں احکام لکھ کر بھیجے وہ چوروں کے ہاتھ کی طرح کاٹ دیا گیا۔“ ماضی کے ابن مقلہ کو تاریخ معاف کر سکتی ہے، مگر حال کے "ابن مقلہ" جو اپنے مناصب کو تعمیری جدوجہد میں نہیں لگاتے بلکہ اشتہاری قسم کے ذاتی عزائم میں اپنے قیمتی مواقع کو برباد کر رہے ہیں۔ ان کے پاس دوسری بار اس اندوہناک غلطی میں مبتلا ہونے کا کیا عذر ہے۔ کیا انھیں یاد نہیں کہ مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6133) یہ ایک حقیقت ہے کہ بہترین صلاحیتیں ہمیشہ سیاسی عزائم میں برباد ہوئی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page