Urdu book · تصویر ملت

یہ اختلاف

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

بے قیمت الفاظ ہمارے قائدین اپنی تقریروں اور تحریروں میں ہر روز مسلمانوں کو بتاتے رہتے ہیں کہ مسلمان کیا کریں۔ وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ: مسلمان متحد ہو جائیں مسلمان اس ملک کی اخلاقی قیادت کریں مسلمان خیر امت کا کردار ادا کریں یہ مشورے یقیناً بہت اچھے مشورے ہیں مگر وہ سادہ معنوں محض مشورے نہیں ہیں۔ وہ عظیم ترین قربانی کے مطالبے ہیں۔ آدمی قربانی کی قیمت پر ہی ان مشوروں پر قائم ہو سکتا ہے ــــــ متحد ہونے کی قیمت ہے اختلاف کے باوجود متحد ہونا۔ اخلاقی قیادت کی قیمت ہے تلخیوں کے باوجود اخلاق پر قائم رہنا۔ خیر امت کا کردار ادا کرنے کی قیمت ہے شکایتوں کے باوجود لوگوں کا خیر خواہ ہونا۔ یہ سب اعلیٰ ظرفی کی باتیں ہیں اور اعلیٰ ظرفی کا یہ معیار وہ ہے جس پر خود مشورہ دینے والے قائدین بھی پورے نہیں اترتے۔پھر وہ عوام اعلیٰ ظرفی کے اس معیار پر کیسے پورے اتریں گے۔ جن کو تقریر و تحریر کی صورت میں یہ قیمتی مشورے دئے جارہے ہیں۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اسی طرح مشورے کی بھی ایک قیمت ہے۔ اور وہ ہے آدمی کا اول المسلین ہونا یعنی مشورہ دینے والا خود اس اصول پر قائم ہو جس کا مشورہ وہ دوسروں کو دینے جارہا ہے۔ ایک ایسا مشورہ جس کی قیمت ادا نہ کی گئی ہو سراسر لا حاصل ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہ مشورہ دینے والے کے حصہ میں آتا ہے اور نہ اس کے حصہ میں جس کو مشورہ دیا گیا ہے۔ جو لوگ اختلاف کے وقت بے برداشت ہو جاتے ہیں۔ جو شکایت پیدا ہوتے ہی آدمی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ جن کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے مداحوں کے لئے با اخلاق ہیں اور اپنے ناقدین کے لئے بے اخلاق۔ وہی لوگ دوسروں کو اچھا داور اعلیٰ کردار کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس قسم کا مشورہ دینے والے قائدین پر حضرت مسیح کے وہ الفاظ صادق آتے ہیں جو آنجناب نے یہودی پیشواؤں کے بارہ میں فرمائے تھے: ”اے شرع کے عالمو، تم پر افسوس کہ تم ایسے بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے۔ آدمیوں پر لادتے ہو اور آپ ایک انگلی بھی ان بوجھوں کو نہیں لگاتے (لوقا ۱۱: ۴۶ )

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page