ایک مثال
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مثال ایک خبر پڑی ہے: برطانیہ کے شہر لیسٹر میں پچھلے کچھ عرصہ سے مسلمانوں اور مقامی آبادی کے درمیان مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کے سوال پر کچھ ناخوش گواری چلی آہی تھی۔ مقامی عیسائی آبادی اور محکمہ حفظان صحت کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکروں اور ایمپلی فائیروں کی آواز ایک خاص حد میں رہنی چاہیے۔ جیسا کہ چرچوں کی گھنٹیوں کی آواز رہتی ہے۔ اور یہ کہ کم سے کم فجر کی اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے احتراز کیا جائے۔ اب لندن کے اخبار ٹائمز کی اطلاع سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے سلجھ گیا ہے۔ مسلم رہنماؤں اور مقام حکام نے مل بیٹھ کر طے کر لیا کہ اذان لاؤڈ اسپیکر پر بدستور ہوتی رہے گی لیکن محدود آواز میں۔ مسلمان فجر کی اذان میں یہ آلہ استعمال نہیں کریں گے۔ اب صرف عشار کی اذان کے وقت کا معاملہ ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ یہ اذان زیادہ سے زیادہ آٹھ بجے دے دی جائے۔ جبکہ ائمہ کا اصرار ہے کہ اس کا وقت نو سے ساڑھے نو بجے تک ہونا چاہیے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بھی سلجھ جائے گا (سہ روزہ دعوت ۲۵ جولائی ۱۹۹۰) مذکورہ واقعہ میں برطانیہ کے مسلمانوں نے جو طریقہ اختیار کیا اس کا نام ایڈجسمنٹ ہے۔ الرسالہ اسی ایڈجسمنٹ کی دعوت دیتا ہے، مگر وہی مسلمان جو برطانیہ میں ایڈجسمنٹ پر راضی ہو جاتے ہیں، انہیں سے جب ہندوستان میں ایڈجسمنٹ کی بات کہی جائے تو وہ اس کو "بزدلی" کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی ہندوستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ یہ مسلمان باہر کے ملکوں میں جاکر جس طرح رہتے ہیں، اگر اسی طرح وہ ہندوستان میں بھی رہنے لگیں تو یہاں کے فرقہ وارانہ مسائل اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں۔ ایڈجسمنٹ بزدلی نہیں، ایڈجسمنٹ زندگی کا اصول ہے۔ اس کی ضرورت ہر جگہ اور ہر ملک کے لیے ہے، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک۔ اس کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں مگر اس کی ضرورت اور اہمیت ہر جگہ یکساں طور پر باقی رہتی ہے۔ ایڈجسمنٹ کے بغیر اس دنیا میں زندگی کی تعمیر ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ یہ انداز مدعو کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ دعوت کے بارہ میں ہمدردانہ غور کر سکے۔ اس اعتبار سے یہ طریقہ سراسر حکمت ہے نہ کہ عام معنوں میں صرف ایک مصلحت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader