Urdu book · تصویر ملت

آسان حل

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

آسان حل ایک قائد فرقہ وارانہ فساد کے موضوع پر بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں جو فسادات کے خلاف تحریک چلا رہا ہوں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مجھے ذاتی طور پر کوئی خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ میرے لیے دولت مند عرب ملکوں میں قیمتی پیش کشیں موجود ہیں اور میں وہاں جا کر آرام اور عافیت کی زندگی گزار سکتا ہوں۔ یہ آدھی سچائی ہے۔ کسی مسلمان کے لیے عرب ملکوں میں قیمتی جگہ صرف اس شرط پر ہے کہ وہ وہاں کے نظام سے مکمل موافقت کرے۔ اگر وہ وہاں جا کر اس قسم کی مخالف نظام تقریر کرنے لگے جیسی تقریریں ہمارے قائدین یہاں کرتے رہتے ہیں تو عرب ملکوں میں اس کی کم سے کم سزا یہ ہوگی کہ اس کو فوراً وہاں سے ڈی پورٹ کر دیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں اصاغر اور اکابر کی بہت بڑی تعداد عرب ملکوں سے قیمتی فوائد حاصل کر رہی ہے۔ کچھ لوگ وہاں مستقل طور پر آباد ہیں۔ کچھ لوگ تقریبات اور کانفرنسوں میں شریک ہو کر اپنی شہرت اور اعزاز میں اضافہ کر رہے ہیں۔ مگر ان فوائد کا حصول صرف اس قیمت پر ممکن ہوا ہے کہ ہر ایک وہاں کے سیاسی نظام کے بارہ میں مکمل طور پر خاموش رہتا ہے۔ وہ وہاں کی ان خرابیوں کے خلاف کبھی نہیں بولتا جن کے خلاف بولنا حکومتی نظام سے ٹکرانے کے ہم معنی ہو۔ حتی کہ اگر وہاں لاؤڈ اسپیکر کے عمومی استعمال پر پابندی ہو تو وہ یہ مطالبہ لے کر نہیں کھڑے ہوتے کہ ہم کو لاؤڈ اسپیکر کے عام استعمال کی اجازت دی جائے۔ یہی وہ واحد قیمت ہے جس کی ادائیگی نے انھیں یہ موقع دیا ہے کہ وہ عرب ملکوں کے قیمتی فوائد اپنے لیے سمیٹ سکیں۔ ایسی حالت میں کہنے والوں کو یہ کہنا چاہیے کہ جس طرح عرب ملکوں میں جا کر ہم لوگ وہاں کے نظام سے موافقت کرکے رہتے ہیں اسی طرح ہم کو یہاں بھی نظام سے موافقت کرکے رہنا چاہیے ۔ اس کے بعد ہم کو یہاں بھی اسی طرح آرام اور عافیت کی زندگی مل جائے گی جس طرح ہم کو عرب ملکوں میں آرام اور عافیت کی زندگی ملی ہوئی ہے۔ یہ صرف قیمت کی ادائیگی کا مسئلہ ہے نہ کہ ایک ملک اور دوسرے ملک میں فرق کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page