فرق کا سبب
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
فرق کا سبب راجہ مہندر پر تاپ (۱۹۷۹-۱۸۸۶) نے ۱۹۰۰ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ دنیا کا سفر کیا تھا۔ اس سفر میں انھوں نے چار مہینے گزار سے اور یورپ، امریکہ، کناڈا، جاپان وغیرہ جا کر نئی دنیا کو اپنی آنکھ سے دیکھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس طرح مجھے عالمی نگاہ حاصل ہوئی۔ میرے سفر نے مجھے مطمئن کر دیا کہ یورپ اور امریکہ کی ترقی کی وجہ جدید مشینوں اور صنعتوں کے سبب سے ہے ۔ میں نے اپنا یہ ذہن بنایا کہ مجھے ہندوستان میں ٹکنکل تعلیم کا آغاز کرنا ہے : Thus I received World Vision. My tour convinced me that the progress of Europe and America was due to modern machines and industries. I made up my mind to start technical education. چنانچہ سفر سے واپسی کے بعد راجہ مہندر پرتاپ نے ٹکنکل اسکول اور ٹکنکل کالج قائم کیا جس کا نام ابتداً پریم مہا و دیالیہ تھا۔ انھوں نے اپنی ریاست کے پانچ گاؤں اور ورندابن میں اپنا ایک بہت بڑا مکان اس کام کے لیے وقف کر دیا۔ ان پانچ گاؤں کی آمدنی تقریباً ۳ ہزار روپیہ سالانہ تھی ۔ موجودہ صدی کے آغاز میں یہ آمدنی بہت بڑی رقم کے برابر رکھتی۔ ۱۹۱۱ میں راجہ مہندر پرتاپ نے دوبارہ مغربی دنیا کا سفر کیا اور انگلینڈ، جرمنی، سوئزرلینڈ اور پیرس کے ٹکنکل کالجوں کو دیکھا تا کہ اس کے مطابق اپنے یہاں کی ٹکنکل تعلیم کے اداروں کو مزید ترقی دے سکیں ۔ (ڈٹے آفرٹر، اگست، ۱۹۰۸) اکثریتی فرقہ میں راجہ مہندر پرتاپ جیسے بہت سے لوگ ہیں جنھوں نے انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں مغربی دنیا کا سفر کیا۔ اور ہندوستان واپس آکر اس قسم کا تعمیری کام کیا جس کی ایک مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ جب کہ مسلمانوں میں ایسی کوئی بھی مثال موجود نہیں ۔ ماضی کا یہی فرق ہے جو دونوں فرقوں کے حال کے فرق کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ پھڑٹے پن کا کیس ہے نہ کہ تعصب کا کیس۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader