یہ لیڈر
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ لیڈر مسٹر جناح اور پاکستان کے بارہ میں حال میں لندن سے ایک کتاب چھپی ہے۔ مصنف کا نام اور کتاب کا نام حسب ذیل ہے: Jinnah of Pakistan, by Stanley Wolpert اس کتاب میں آزادی سے قبل کی ہندوستانی سیاست پر بہت سی دل چسپ باتیں درج ہیں۔ اس کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے : Congress leaders had different views from Jinnah regarding the politi- cal set-up in the country. Before the demand of Pakistan, Jinnah was asking for a loose federation with the Centre having limited powers and residue powers resting with the states. On the other hand, the whole thrust of the nationalist politics of the Congress was in the direction of a strong Centre. Jinnah could not have gone along with Congress leaders. ملک کے سیاسی ڈھانچہ کے بارہ میں کانگریسی لیڈروں کا نقطہ نظر جناح کے نقطہ نظر سے مختلف تھا۔ پاکستان کے مطالبہ سے پہلے جناح کا مطالبہ ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق کا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مرکز کے اختیارات محدود ہوں اور بقیہ اختیارات ریاستوں کو حاصل رہیں۔ دوسری طرف کانگریس کی قومی سیاست کا پورا زور اس رخ پر تھا کہ مرکز مضبوط ہو۔ جناح کا کانگریسی لیڈروں کے ساتھ نہیں چل سکتے تھے (ٹائمز آف انڈیا ۱۱ نومبر ۱۹۸۴) مسٹر جناح کیوں آزاد ہندوستان میں ایک کمزور سیاسی مرکز چاہتے تھے۔ اور کانگریسی لیڈر کیوں طاقتور مرکز پر زور دیتے تھے۔ اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ ان لیڈروں کی نگاہ سیاسی پارٹیوں کے ریزولوشن کے الفاظ پر تو خوب تھی مگر ان میں سے کوئی لیڈر ان تاریخی حقیقتوں کو نہ دیکھ سکا جو کسی ملک کی تشکیل میں اصلی فیصلہ کن ہوا کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں یہود کے دین کو برابر کے درجہ میں تسلیم کر لیا (للِيھود دينهم و للمسلمین بینھم) اسی طرح صلح حدیبیہ کے وقت آپ ایسی دفعات پر راضی ہو گئے جو مکہ کے اوپر منکرین اسلام کی بالادستی کے اعتراف کے ہم معنی تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی نظر حال پر نہیں تھی بلکہ مستقبل پر تھی۔ آپ جانتے تھے کہ وقتی معاہدہ میں خواہ جو لفظ بھی لکھ دیا جائے ، بالآخر مکہ اور مدینہ کا فیصلہ وہ تاریخ کرے گی جو اسلامی دعوت کے نتیجہ میں عرب میں بننا شروع ہوئی ہے۔ اسی پیغمبر کے ماننے والوں کا حال آج یہ ہے کہ وہ سامنے کی باتوں کے سوا کوئی اور بات جانتے ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader