اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
اسراف کا نتیجہ مصر کا حکمراں خدیو اسماعیل پاشا (۱۸۹۵ ۔ ۱۸۳۰) اعلیٰ صلاحیت کا مالک تھا۔ اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ مصر کو عملی طور پر ترکی کی عثمانی خلافت سے آزاد کر لیا۔ بحر احمر اور بحر روم کو ملانے کے لئے نہر سوئز نکالنے کا منصوبہ (۱۸۶۶) اسی کے زمانہ میں بنا۔ اسماعیل پاشا نے اس منصوبہ کی اہمیت کو سمجھا اور اس کو فوراً منظوری دے دی۔ خدیو اسماعیل پاشا عوام کو خوش کرنا بھی جانتا تھا۔ چنانچہ وہ مصر کا پہلا حکمراں ہے جس نے ملک میں ۱۸۶۶ میں منتخب اسمبلی کے طریقہ کو رایج کیا۔ اس کی زندگی میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو اس کی اعلیٰ صلاحیت کو ثابت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود خدیو اسماعیل پاشا کا آخری انجام یہ ہوا کہ وہ نالائق حکمران قرار پایا۔ اور اپنے بیٹے توفیق پاشا کے حق میں اس کو تخت و تاج چھوڑنا پڑا۔ اس ناکامی کی وجہ خدیو اسماعیل پاشا کی ایک غلطی تھی۔ اور وہ اس کا حد سے بڑھا ہوا اسراف تھا۔ مصر میں وہ ایک فضول خرچ حکمراں کی حیثیت سے مشہور تھا۔ اس کے علاوہ جب وہ مصر سے باہر (ترکی فرانس وغیرہ) جاتا تو وہاں وہ اور بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ دولت خرچ کرتا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے زمانہ میں مصر کے قرضہ کی مقدار ۱۱۰ ملین پونڈ تک پہنچ گئی تھی۔ خدیو اسماعیل پاشا کی فضول خرچیوں کو پورا کرنے کے لئے مصر کا خزانہ ناکافی تھا۔ چنانچہ اس نے ملک کے بیت المال، خیراتی اوقاف اور یتیموں اور بیواؤں کے فنڈ سے بھی قرض لے رکھا تھا جو تقریباً ۷۳۰۰۰۰۰ پونڈ کے برابر تھا۔ ان قرضوں کی ادائیگی کے لئے اس نے مصری عوام کے اوپر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ اس کے زمانہ میں تقریباً چالیس قسم کے ٹیکس ملک میں نافذ تھے۔ عبد الرحمن الرافعی کی کتاب ” اسماعیل “ اور یوسف نحاس کی کتاب ” الفلاح “ میں اس کے ٹیکسوں کی جو تفصیل درج ہے وہ انتہائی دہشت ناک ہے۔ مثلاً قدیم مصری کسان ایک لباس پہنتے تھے جس کو زعبوط کہا جاتا تھا۔ اسماعیل پاشا کی حکومت نے اس کپڑے پر بھی ٹیکس لگا دیا۔ ایک زعبوط پر ایک ریال ٹیکس تھا۔ ادائیگی کے وقت زعبوط کی آستین پر ایک خاص قسم کی مہر ڈال دی جاتی تھی جو اس بات کی علامت تھی کہ اس کا ٹیکس ادا ہو چکا ہے ۔ بد قسمتی یہ تھی کہ یہ مہر پانی لگنے سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader