Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

چھوٹ جاتی تھی ۔ اس لئے کُسان اپنے زعبوطاکو دھوتے ہوئے اس کے مہر کے حصہ کو چھوڑ دیتا۔ کیوں کہ معلوم ہوتا کہ ٹیکس وصول کرنے والے ہر وقت بازاروں میں گھومتے رہتے تھے ہر کانشان مٹتے ہی اس کے اوپر دوسرا ریال لگا دیں گے۔ ٹیکسوں کی اس کثرت کے باوجود یہ حال تھا کہ دو سال تک سرکاری ملازہوں اور فوجیوں کی تنخواہیں نہ دی جاسکیں۔ مگر قرض کی ادائیگی کے لئے یہ سارے ٹیکس بھی ناکافی ثابت ہوئے۔ کیوں کہ اسماعیل پاشا کا اسراف بھی اسی کے ساتھ برابر جاری تھا۔ آخر وہ اندوہناک واقعہ ہوا جس نے مصر کی تاریخ بدل ڈالی۔ اسماعیل پاشانے قرضوں کی ادائیگی کے لئے نہرسویز میں حکومت مصر کے حصہ کو ۱۸۷۵ میں انگلستان کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ جب اس سے بھی قرضوں کا بوجھ ختم نہ ہوا تو اس نے فرانس کے قرضوں کے معاوضہ میں فرانس کو انگلستان کے ساتھ سویز میں شریک قرار دے دیا۔ اور سویز کے اوپر جہاں پہلے انگلستان اور مصر کا کنٹرول تھا، اب فرانس اور انگلستان کا کنٹرول قائم ہوگیا۔ اور اسی کے ساتھ مصر میں ان کی سیاست کے داخلہ کا دروازہ بھی کھل گیا۔ جمال عبد الناصر کا ۱۹۵۶ میں سویز کو نیشنلائز کرنا گویا اسماعیل پاشا کی اسی غلطی کی اصلاح تھا۔ مگر صدر ناصر نے یہ دوسری غلطی کی کہ اسراف کی اصلاح نا عاقبت اندیشانہ اقدام سے کرنی چاہی جو مصر کے حق میں پہلے سے بھی زیادہ مہنگی ثابت ہوئی۔ زندگی خواہ افراد کی ہو یا قوموں کی ، نہایت نازک امتحان ہے۔ یہاں ہر ایک کے حوصلہ اور ہوش مندی کی جانچ ہو رہی ہے۔ ہمیں ہر وقت چوکنارہنا ہے۔ کیونکہ کوئی ایک غلطی بھی اتنی فیصلہ کن ہو سکتی ہے کہ ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر دے اور ہمارے لئے بالآخر حسرت کے سوا اور کچھ نہ چھوڑے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page