Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اب تک یونانیوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ (ٹائمز آف انڈیا ۶۔ مارچ ۱۹۸۶) رج نیش نے یونان سے نکالے جانے کے وقت سقراط کا حوالہ اس طرح دیا ہے گویا کہ ان کا معاملہ بھی وہی ہے جو قدیم یونانی فلسفی سقراط کا معاملہ تھا۔ حالاں کہ سراسر دھاندلی ہے ، دونوں کا معاملہ اتنا مختلف ہے کہ ایک کو دوسرے سے کوئی نسبت نہیں۔ سقراط (۳۹۹ - ۴۷۰ ق م) قدیم یونان کے تین بڑے فلسفیوں (سقراط، افلاطون، ارسطو) میں سے ایک تھا۔ اس کو حکومت کے فیصلے کے تحت زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ مگر یہ سراسر ظلم کا فیصلہ تھا، سقراط مسلمہ طور پر ایک بے قصور آدمی تھا۔ سقراط، تاریخی ریکارڈ کے مطابق ، نہایت پاکباز آدمی تھا۔ اس کے شاگرد افلاطون نے اس کی بابت لکھا ہے کہ وہ اپنے وقت کا سب سے زیادہ صالح اور بے غرض آدمی تھا، رج نیش کا کا جرم خود غلط ہونا ہے۔ جب کہ سقراط کا معاملہ یہ تھا کہ وہ خود نہایت صحیح آدمی تھا، اس کو صرف اس لیے مجرم قرار دیا گیا کہ وہ مجرم لوگوں کو مجرم کہتا تھا۔ سقراط کے زمانہ میں یونان کا سماج بہت بگڑا ہوا تھا۔ سقراط اس کے خلاف تبلیغ کرتا تھا۔ وہ ظاہری نمائش کے اندر چھپے ہوئے فاسد اخلاق کی پردہ دری کرتا تھا۔ سقراط خدا پر گہرا عقیدہ رکھتا تھا۔ مگر وہ یونانیوں کے مشرکانہ اوہام پر سخت تنقید کرتا تھا، سقراط کی ان باتوں کی زد وہاں کے بڑے لوگوں پر پڑتی تھی۔ چنانچہ وہ لوگ سقراط پر بگڑ گئے اور انھوں نے اس پر جھوٹے الزام لگا کر اس کو مجبور کیا کہ وہ اپنے ہاتھ سے زہر کا پیالہ پیئے ۔ برٹانیکا (۱۹۸۴) کے الفاظ میں، اس کے خلاف فرد جرم دو چیزوں پر مشتمل تھی ــــــــ نو جوانوں کو بگاڑنا۔ اور جن دیوتاؤں کو شہر کے لوگ پوجتے ہیں ان کو نظر انداز کرنا : There were two accounts in the accusation: corruption of the young, حقیقت یہ ہے کہ سقراط کے برعکس ، رج نیش مسلمہ طور پر ایک غلط آدمی ہے ، اس کے باوجود اس کو اپنی صفائی کے لیے الفاظ مل گئے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو اسی طرح اپنی صفائی کے لیے الفاظ ملتے رہیں گے ، خواہ باعتبار حقیقت وہ کیسا ہی مجرم کیوں نہ ہو۔ قیامت کے بھونچال سے پہلے کسی شخص سے اس کی یہ آزادی چھینے والی نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page