Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

مفت کا کریڈٹ لاہور (پاکستان) کی ایک خاتون کینسر اور ذیا بیٹس کے مرض میں مبتلا تھی۔ اس کے بھائی نے بی بی سی ریڈیو پر سنا کہ ہندستانی وزیر اعظم مسٹر مرار جی ڈیسائی نے اس قسم کے مریضوں کا مجرب قدرتی علاج یہ بتایا ہے کہ وہ کثرت سے انگور کھائیں۔ مذکورہ پاکستانی کو یہ نسخہ پسند آگیا۔ تاہم چند باتیں اس کو وضاحت طلب معلوم ہوئیں: تازہ انگور نہ ملنے کی صورت میں کیا خشک انگور کھایا جاسکتا ہے، کیا انگور کے طریق علاج پر عمل کرتے ہوئے انسولین (دوا) بھی مریضہ کو دی جاسکتی ہے۔ مذکورہ پاکستانی نے مسٹر مرار جی ڈیسائی کو خط لکھا کہ وہ ان امور کے بارے میں اس کو ہدایات دیں۔ چند دن بعد ہندستانی وزیر اعظم کی میز پر جو ڈاک رکھی گئی اس میں مذکورہ خط بھی شامل تھا۔ وزیر اعظم اس کو پڑھ کر فوراً حرکت میں آگئے۔ مگر خط کے مطابق پاکستانی خاتون کی حالت بہت نازک تھی ۔ اس کو فی الفور "امداد" پہنچانا ضروری تھا۔ اگر خط کے ذریعہ جواب بھیجا جاتا ہے تو اس کو منزل مقصود تک پہنچنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔ مذکورہ پاکستانی کے لیٹر پیڈ نے اس مسئلے کو حل کر دیا جس پر اس کا لاہور کا ٹیلی فون نمبر درج تھا اور وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ وہ خط کے بجائے ٹیلی فون سے اپنا جواب پہنچائیں گے۔ عام حالات میں ہند وستان سے پاکستان ٹیلی فون ملانے میں کئی روز لگ جاتے ہیں۔ مگر اس وقت صورت حال مختلف ہوتی ہے جب کہ وزیر اعظم ہندوستان خود ٹیلی فون کر رہا ہو۔ اگلے ہی لمحہ لاہور میں مذکورہ شخص کے ٹیلی فون کی گھنٹی بج رہی تھی۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے بسرعت اپنا قیمتی مشورہ پر دسی ملک کے شہری تک پہنچا دیا تھا ۔ تاہم یہ تیز رفتار امداد کام نہ آئی۔ پاکستانی خاتون اس سے پہلے دنیا سے رخصت ہو چکی تھی ۔ پاکستانی مریضہ کے بھائی کو ہندستانی وزیر اعظم کی اس عنایت نے بہت متاثر کیا۔ اس نے وزیر اعظم کو شکریہ کا خط لکھا۔ خط میں درج تھا : I am much obliged and overwhelmed by your nobility. You are every inch a gentleman. The members of my family and I are all appreciation for you. I do not tire of telling my friends; here is the finest specimen of humanity and humanism The Times of India, May 22, 1979 میں آپ کی شرافت سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں اور آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔ آپ ایک ایک انچ ایک اعلیٰ انسان ہیں ۔ میں اور میرے گھر کے سب لوگ آپ کے بے حد قدر داں ہیں۔ میں اپنے دوستوں کو یہ بتاتے ہوئے نہیں تھکتا؛ یہ انسان اور انسانیت کی ایک اعلیٰ ترین مثال ہے ۔“ (ٹائمز آف انڈیا ۲۲ مئی ۱۹۷۹) ایک وزیر اعظم کے اپنے ملک میں انتہائی وحشیانہ طور پر بے گناہ مردوں اور عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ ان کی معاشیات کو منظم طور پر بر باد کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کو دوسرے درجہ کا شہری بنا دیا جاتا ہے مگر وزیر اعظم کو ان امور میں اپنا حصہ ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ البتہ باہر کے ایک شخص کی مصیبت کو سن کر وہ بے تاب ہو جاتا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page