Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

الفاظ سے زمین و آسمان بھر رہے ہیں ، دوسری طرف قوم جہاں تھی وہیں بدستور پڑی ہوئی ہے۔ وہ ایک قدم آگے نہ بڑھ سکی۔ حقیقت واقعہ تو یہ تھا کہ قوم زندگی کے دوڑ میں پچھڑ گئی تھی۔ وہ ہر میدان میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئی تھی۔ ایسی حالت میں اصل ضرورت یہ تھی کہ کھونے کا احساس دلا کر اس کے اندر پانے کا جذبہ بیدار کیا جائے۔ اس کے برعکس مذکورہ قسم کی باتوں نے یہ کیا کہ جن چیزوں کو ہم نے واقعہ میں کھو دیا تھا ان سے وراثتی رشتہ جوڑ کر ان کو اپنے خانہ میں لکھ لیا۔ جو چیز واقاقی اعتبار سے اپنی نہ تھی اس کو وراثتی اعتبار سے اپنی بنا لیا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو کسی نے ” پدرم سلطان بود کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اور حقائق کی اس دنیا میں پدرم سلطان بود سے زیادہ بری نفسیات اور کوئی نہیں۔ انسان کا اصل سرمایہ عجز ہے نہ کہ بڑائی۔ فخر اور بڑائی کی نفسیات پیدا کرنا گویا انسان کو خدا و الی خوراک دینا ہے۔ خدائی غذا پر انسان کی تعمیر کرنا ہے۔ اس قسم کی الٹی خوراک صرف ایسے انسان پیدا کر سکتی تھی جو جھوٹے جنون عظمت (Paranoia) میں مبتلا ہوں ۔ اور جھوٹا جنون عظمت ذلت اور بربادی کے سوا اور کہیں آدمی کو نہیں پہنچاتاد۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصل بیماری ، ایک لفظ میں ، جھوٹا فخر ہے۔ یہ عین وہی بیماری ہے جو بعد کے زمانہ میں یہود کے اندر پیدا ہوئی ۔ اور اب وہ مسلمانوں میں پوری شدت کے ساتھ پیدا ہو چکی ہے۔ فخر کی نفسیات دینی لحاظ سے بھی غلط ہے اور دنیاوی لحاظ سے بھی۔ دینی لحاظ سے اس کی غلطی یہ ہے کہ خدائے ذوالجلال پر ایمان آدمی کے اندر تواضع کا مزاج پیدا کرتا ہے اور فخر کا مزاج عین اس کا ضد ہے۔ دنیا کے لحاظ سے اس کی غلطی یہ ہے کہ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو اس کے عمل کے بقدر حصہ ملتا ہے۔ مگر فخر کی نفسیات عمل اور جدوجہد کی قاتل ہے۔ ایسا آدمی کبھی عمل کے تقاضے پورے نہیں کرتا اور حب قانون قدرت کے مطابق ناکام ہوتا ہے تو دوسروں کی شکایت کرتا ہے۔ وہ پانے سے بھی محروم رہتا ہے اور جاننے سے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page