Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

ردعمل کے تحت مشہور اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولانا ظفر علی خان (۱۹۵۶ء - ۱۸۷۳ء) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اپنے وطن کرم آباد (پنجاب) میں انتقال کیا۔ نوائے وقت (۲۷ نومبر ۱۹۸۹ء) میں ان کی بابت مفصل معلومات شائع ہوئی ہیں۔ ایک اقتباس یہ ہے : "ظفر علی خاں کے والد مولانا سراج الدین کشمیر کے محکمہ ڈاک میں ملازم تھے۔ اوائل عمر میں مولانا ظفر علی خاں کو کشمیر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی قومی غیرت کو تڑپا دیا۔ مولانا ظفر علی خاں کے سوانح نگار محمد اشرف خاں عطا لکھتے ہیں کہ میٹرک پاس کر لینے کے بعد مولانا ظفر علی خاں اپنے والد سے ملنے گلمرگ (کشمیر) گئے۔ وہاں ایک دن وہ ڈاک خانہ کے باہر بیٹھے تھے۔ اسی اثنائ میں ایک انگریز فوجی افسر گھوڑے پر وہاں آگیا۔ اس نے بڑی تمکنت سے ظفر علی خاں کو بلایا اور کہا کہ اے لڑکے، جب تک میں اندر سے واپس نہیں آتا، تم میرے گھوڑے کی لگام پکڑے یہاں کھڑے رہو۔ نوجوان ظفر علی خاں کو اس فرنگی کی بات سخت ناگوار گزری۔ انھوں نے اس کو دوٹوک انداز میں جواب دیا۔ اس کوسن کر انگریز سکتہ میں آگیا۔ اس نے اس گستاخی کی شکایت حکام بالا سے کردی۔ نتیجہ ظفر علی خاں کو اپنے والد کے کہنے پر واپس پنجاب آنا پڑا۔ یہ بات عمر کے ساتھ ساتھ شعوری طور پر مولانا ظفر علی خاں کی شخصیت کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر گئی " اخبار مذکور نے لکھا ہے کہ مولانا ظفر علی خاں کا شمار فرنگی حکومت کے صف اول کے مخالفوں میں ہوتا تھا۔ انھوں نے دنیائے اسلام کی ہر اس تحریک میں حصہ لیا جو کسی بھی ملک میں کسی بھی قیادت کے تحت انگریزوں کے خلاف اٹھی۔ مثلاً تحریک خلافت ، تحریک مسجد کانپور ، تحریک آزادی ہند، وغیرہ ۔ اخبار کے الفاظ میں : " ان کی نظروں کے سامنے سلطنت عثمانیہ کا سقوط ہوا۔ خود ان کا خمیر مغلیہ سلطنت کے عظیم کھنڈروں کی راکھ سے اٹھا جس میں امت مرحومہ کی چنگاری ابھی سلگ رہی تھی۔ انھوں نے نیل کے ساحل سے لیکر کاشغر کی حدوں تک پھیلی ہوئی مسلم سلطنت کو پارہ پارہ ہوتے دیکھا۔ ان کے سامنے ہی شیراز کا بلبل بغداد کی تباہی پر نالہ کش ہوا۔ اور داغ دہلی کی بربادی پر رویا اور ابن بدروں غرناطہ کے زوال پر نوحہ کناں ہوا "

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page