Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

عبرت ناک مریم جمیلہ ایک امریکی نومسلم ہیں۔ وہ آج کل پاکستان میں رہتی ہیں۔ انھوں نے اسلام کے بارے میں انگریزی میں کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی ایک کتاب کا نام یہ ہے : Islam in Theory and Practice اس کتاب کا اردو ترجمہ " اسلام ایک نظریہ، ایک تحریک " کے نام سے پاکستان سے شائع ہوا ہے اس کتاب کا ایک باب " اسلام اور صفائی پسندی " کے بارے میں ہے۔ اس باب کے آغاز میں وہ لکھتی ہیں : " آج مسلمان ممالک میں بے حد گندگی اور غلاظت پائی جاتی ہے۔ باہر سے آنے والے لوگ مسلمانوں سے جو نفرت کرتے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ گندگی اور غلاظت بھی ہے۔ یہ چیز مسلمانوں کی ساری شہرت اور ساکھ پر پانی پھیر دیتی ہے۔ کسی بھی یورپی سیاح سے پوچھئے ۔ دنیائے اسلام کے ملکوں اور عوام کے متعلق اس کا کیا خیال ہے ؟ آپ کو ہمیشہ ایک جواب ملے گا : "وہ کتنے غلیظ ہیں !" افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ نکتہ چینی بسا اوقات اس قدر صحیح ہوتی ہے کہ خود یورپی نژاد نومسلم محض اسی وجہ سے ارتداد کے کنارے پہوچ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر میری ایک بہت اچھی دوست ایک جرمن نومسلم_____ بیگم فاطمہ ہیرن سرکا ہیں۔ وہ اور ان کے شوہر اِن دنوں ایک مسلمان ملک میں اسلامی زندگی بسر کرنے کی انتہائی کوشش کر رہے تھے ۔ ۱۱ اگست ۱۹۷۳ء کو بیگم فاطمہ نے مجھے ایک خط میں لکھا : " میرے شوہر اس ملک میں پھیلی ہوئی گندگی سے بے حد متنفر ہو چکے ہیں۔ ان کے دفتر کی دیواریں خصوصاً سیڑھیاں پان کی پیک سے لال سیاہ ہو رہی ہیں۔ لوگ اپنی پینটলون کے بٹن باتھ روم میں نہیں، اپنے میز کی طرف واپس آتے ہوئے لگاتے ہیں۔ جس ٹونٹی پر میرے شوہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں دوسرے لوگ وہاں اپنے مصنوعی دانت صاف کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور پان کی سرخی سے ارد گرد کی ہر چیز کو لال کر دیتے ہیں۔ اسی دوران میں نوکر جا کر پینے کا پانی بھرتے رہتے ہیں۔ جمعہ کے روز نہا دھو کر اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر مسجد میں آنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page