اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
ان حادثات ( صحیح تر لفظ میں مسلمانوں کی غفلت سے پیش آنے والے واقعات) نے مولانا ظفر علی خاں کو تڑپا دیا۔ وہ اپنی تڑپ کو نظم و نثر میں انڈیلتے رہے۔ یہاں تک کہ ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ کو اس دنیا سے چلے گئے ۔ مولانا ظفر علی خاں یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی یہ منفی چیخ پکار مثبت نتیجہ پیدا کرے گی۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا تھا : عنقریب اسلام کی فصل بہار آنے کو ہے مگر یہ سراسر خوش خیالی تھی جو کبھی پوری نہیں ہوئی۔ یہ ایک مولانا ظفر علی خاں کی بات نہیں ۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام رہنماؤں کا حال ہے ۔ وہ اپنی منفی کاشت سے مثبت فصل کی امید کرتے رہے۔ وہ دوسروں کی تخریب میں اپنی تعمیر کا خواب دیکھتے رہے ۔ یہ سلسلہ آج بھی اسی جوش کے ساتھ جاری ہے ۔ مگر یہ یقینی ہے کہ اس قسم کی کوششوں سے نہ ماضی کے لیڈر کوئی نتیجہ برآمد کر سکتے تھے اور نہ حال کے لیڈر کوئی نتیجہ برآمد کر سکیں گے ۔ اس قسم کی تمام سرگرمیاں ضیاع وقت کے خانہ میں جانے والی ہیں نہ کہ تعمیر قوم کے خانہ میں ۔ م، و، ج ، د ، ز مین (ی) (ا) رُے۔ (ا) ری،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader