اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹیچر نہیں ہونا چاہیے ۔ اس لیے کہ بچوں کی صحیح طور پر عورت ہی دیکھ بھال کر سکتی ہے ۔ مادرانہ شفقت صرف عورت ہی دے سکتی ہے ۔ ماہنامہ میثاق، لاہور، ستمبر ۱۹۸۶ ، صفحه ۶۶) اب اسی موضوع پر دوسرے اسلام پسند کے خیالات ملاحظہ فرمائیے ۔ احمد محمد جمال سعودی عرب کے مشہور اسلامی مفکر ہیں۔ وہ فکری طور پر اخوان کے آدمی سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوہ (یکم ستمبر ۱۹۸۶ ) میں ایک پر جوش مضمون لکھا ہے جس کا عنوان یہ ہے : الفتنة نائمة.... لعن الله من ایقظھا ۔ رفتہ سویا ہوا ہے ، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو اس کو جگائے) یہ مضمون عین اسی مسئلہ کے بارے میں ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ۔ سعودی عرب میں اس وقت تعلیم کا پورا نظام مردوں کے ہاتھ میں ہے، ابتدائی تعلیم بھی اور اعلیٰ تعلیم بھی ۔ اب سعودی عرب کے بعض دانشور وہاں یہ تحریک چلا رہے ہیں کہ ابتدائی درجہ دالمرحلۃ الابتدائیہ) میں شروع کے تین سال کی تعلیم عورتوں کے حوالہ کر دی جائے ۔ اور اس کی دلیل عین وہی دی جاتی ہے جس کا ذکر اوپر کے اقتباس میں ہوا ۔ یعنی مادرانہ شفقت ۔ وہ کہتے ہیں : ان الطفل محتاج الى الاحساس بالامن والحب والحنان ۔ وهو ما لا يتحقق الأعلى يد المعلمات بكل ما يحملان من غرائز الامومة الحانية (صفحه ۲۰) احمد محمد جمال صاحب نے اپنے مضمون میں اس نقطہ نظر کے خلاف نہایت شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے جس کا اندازہ ان کے عنوان سے ہوتا ہے۔ وہ بچوں کے لیے خاتون معلم مقرر کرنے کو " فتنه " قرار دیتے ہیں، ایک ایسا فتنہ جس کے بیدار کرنے پر آدمی خدا کی لعنت کا مستحق قرار پائے۔ انھوں نے اس نظریہ کو نہ صرف اسلامی اعتبار سے مکمل طور پر رد کیا ہے، بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ابتدائی تعلیم کے لیے خاتون معلم کے مقابلہ میں مرد معلم زیادہ بہتر ہے : واعتقد الرجل اصلح من للمرأة في التدريس خلال المرحلة الابتدائية اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ مختلف اسلام پسند ایک دشمن کے خلاف متحد ہوتے ہیں۔ اور جب خارجی دشمن ہٹ جاتا ہے تو خود ایک دوسرے کے دشمن بن کر آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader