Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بگاڑ ہے یا اصلاح قرآن میں ارشاد ہوا ہے : کہو کہ خدا اس پر قادر ہے کہ وہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے، تمھارے اوپر سے یا تمھارے قدموں کے نیچے سے ، یا تم کو گروہ گروہ کر کے بھڑا دے اور تمھارے ایک کو تمھارے دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھائے۔ دیکھو ہم کیونکر اپنی نشانیاں طرح طرح سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں (الانعام ۶۵) اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی قوم پر نافرمانی کے سبب سے خدا کا جو عذاب آتا ہے وہ تین صورتوں میں آتا ہے۔ ایک وہ جو اوپر سے آئے۔ جیسے پتھر برسنا یا طوفانی ہوا اور شدید بارش ۔ دوسرے وہ جو پاؤں کے نیچے سے آئے، جیسے زلزلہ یا سیلاب وغیرہ ۔ تیسرا وہ جس کو داخلی عذاب کہا جا سکتا ہے، یعنی باہمی ٹکراؤ اور آپس کی خون ریزی۔ پہلا اور دوسرا عذاب ہمیشہ ان قوموں پر آتا ہے جن پر نبی کے ذریعہ اتمام حجت کیا گیا ہو، اس کے باوجود وہ منکر ہی رہے۔ ختم نبوت کے بعد اب چونکہ کوئی نبی آنے والا نہیں ۔ اس لئے اب امت مسلمہ کے لئے ان دونوں عذابوں کا خطرہ نہیں۔ البتہ تیسری قسم کے عذاب سے وہ مامون نہیں ہے۔ جب بھی اس امت میں غفلت اور سرکشی بڑھے گی وہ اس تیسرے عذاب کی لپیٹ میں آجائے گی ۔ ایک روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مختلف کتب حدیث میں آئی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے مذکورہ آیت کی تفسیر کے تحت احمد ، نسائی ، ابن حبان اور ترمذی کے حوالے سے جو روایت درج کی ہے اس کو ہم یہاں نقل کرتے ہیں: عن خباب بن الارت انہ قال دافيت رسول حضرت خباب بن ارت کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لیلۃ صلاها كلها حتیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب کہ آپ نے ساری رات نماز كان مع الفجر فسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم پڑھی۔ یہاں تک کہ جب فجر کا وقت آگیا تو آپ نے سلام پھیر من صلاته فقلت يارسول الله لقد صليت الليلة کر اپنی نماز ختم کی۔ میں نے کہا، اے خدا کے رسول ، آج کی صلاة مارأيتك صليت مثلها فقال رسول الله صلى صلی رات آپ نے ایسی نماز پڑھی جیسی نماز پڑھے ہوئے میں نے الله عليه وسلم اجل انها صلاة رغب ورهب سألت اس سے پہلے آپ کو نہ دیکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ربی عز وجل فيها ثلاث خصال فاعطانی اثنتين ومنعني نے فرمایا ہاں ، وہ ڈرا اور اشتیاق کی نماز تھی۔ میں نے اس واحدة ۔ سألت ربی عز وجل ان لا يهلكنا بما اهلكت میں اپنے رب سے تین باتیں مانگیں۔ اس نے دو باتیں مجھ به الامم قبلنا فاعطانيها ۔ وسألت ربی عز وجل کو دے دیں اور ایک منع فرما دیا۔ میں نے اپنے رب سے یہ ان لا يظهر علينا عددا من غيرنا فاعطانيها ۔ وسألت مانگا کہ وہ ہم کو اس طرح ہلاک نہ کرے جس طرح پچھلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page