اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بستی ہے جہاں کسی کو دوسرے سے شکایت نہیں۔ ایک کے ذہن میں دوسرے کے خلاف تلخی یاد نہیں۔ ایسی بستی میں ایک عام آدمی بھی اخلاق اور انسانیت کی باتیں کر سکتا ہے۔ مگر ایک ایسی بستی جہاں لوگوں کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہوں۔ جہاں دلوں میں یہ احساس چھپا ہوا ہو کہ ان کے پڑوسی نے ان پر زیاد تیاں کی ہیں۔ ایسی بستی میں اخلاق اور انسانیت کا وعظ ایک غیر معمولی کام کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہاں کوئی ایسا شخص ہی وعظ کہنے کا حق رکھتا ہے جو اخلاق کے اس بلند مرتبہ پر ہو کہ شکایتوں کے باوجود اپنے پڑوسی کو دوست رکھے۔ دل پر چوٹ لگنے کے بعد بھی چوٹ لگانے والے سے بیزار نہ ہوتا ہو۔ اس پر زیاد تیاں کی جائیں مگر وہ زیاد تیوں کو بھول کر اخلاق اور انسانیت کا پیکر بنا رہے۔ جو شخص ان بلند اوصاف کا حامل نہ ہو اس کا مذکورہ بستی میں اخلاق اور انسانیت کا وعظ کہنا ایک بے فائدہ حرکت ہے۔ ان وعظوں میں جو وقت اور پیسہ خرچ کیا جائے وہ سب وقت اور پیسہ کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ آدمی کسی دوسرے کو ایسے اخلاق کی تلقین کیسے کر سکتا ہے جس پر وہ خود قائم نہ ہو۔ اور اگر کوئی جوشِ قیادت میں ایسا کرے تو اس کی تلقین کی قیمت کیا ہوگی۔ اس مثال میں ہم کو اس سوال کا جواب مل رہا ہے کہ بے شمار کوششوں کے باوجود ہمارے ملک میں ظالمانہ صورت حال کی اصلاح کیوں نہیں ہوتی۔ نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے ہمارے یہاں انسانی برادری، امن کانفرنس، پیام انسانیت جیسے ناموں سے مختلف تحریکیں اٹھتی رہی ہیں۔ دورے کئے جاتے ہیں۔ تقریریں اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ مگر ابتدائی دھوم کے بعد جلدی یہ تحریکیں اس طرح ختم ہو جاتی ہیں جیسے ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں واعظ بننے کے لئے غیر معمولی اخلاقیات والے مصلح درکار ہیں۔ جب کہ ہمارے رہنما صرف معمولی اخلاقیات کا سرمایہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ قوم اپنے دائرہ اختیار میں ”دوستی کے بدلے دوستی، دشمنی کے بدلے دشمنی“ کے جس اصول کو اپنائے ہوئے ہیں، ہمارے رہنما بھی اپنے دائرہ اختیار میں اسی اصول پر چل رہے ہیں۔ ایسی حالت میں دوسروں سے یہ کہنا کہ ”دشمنی کے بدلے دوستی“ کا اصول اپناؤ، خود ارضیحت دیگراں را نصیحت کا مصداق ہے۔ اس قسم کا وعظ ایک قسم کا مسخرہ پن ہے نہ کہ حقیقتہً وعظ و نصیحت۔ انسانیت اور اخلاق کی دو سطحیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس کی طرف سے شکایت کا کوئی سبب پیدا نہ ہوا ہو اس کے ساتھ اخلاق اور انسانیت برتنا۔ یہ معمولی اخلاقیات ہیں۔ دوسرے یہ کہ شکایت اور تلخی پیدا ہونے کے بعد اخلاق اور انسانیت کا معاملہ کرنا۔ اس کو غیر معمولی اخلاقیات کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے رہنما بلاشبہ معمولی اخلاقیات کے حائل ہیں۔ مگر ہمارے جغرافیہ کا جو مسئلہ ہے وہ غیر معمولی اخلاقیات کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اس دوسرے معاملہ میں ہمارے رہنما صفر کی حد تک خامی میں ”انسانیت“ کے پرچار کا کام اگر وہ کسی ایسے جغرافیہ میں کر رہے ہوتے جہاں لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایات پیدا نہ ہوئی ہوں تو ان پر کسی کو اعتراض کا حق نہ تھا۔ کیوں کہ یہ اخلاق کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader