Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

ربی عز و جل ان لا یلبسنا شیعا فمنعتیھا امتیں ہلاک کی گئیں۔ یہ اس نے مجھ کو دے دیا۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہمارے اوپر ہمارے باہر کے دشمن کو (کامل طور پر) مسلط نہ کرے۔ یہ بھی اس نے مجھ کو دے دیا۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہم کو گروہوں میں نہ بانٹے ۔ اس کی قبولیت سے اس نے انکار کر دیا۔ ایک اور روایت میں مزید یہ الفاظ ہیں کہ میں اپنی امت پر گمراہ قائدین کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا۔ جب میری امت میں ایک بار تلوار چل جائے گی تو وہ قیامت تک اس سے اٹھائی نہ جائے گی (انی لا اخاف علی امتی الا ائمة المضلین فاذا وضع السیف فی امتی لم يرفع عنهم الى يوم القيامة) امت مسلمہ کے بگڑنے پر ہونے کی کم از کم ایک یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ گروہوں میں بٹ جائے اور اس کے ایک گروہ کی طاقت دوسرے گروہ کے خلاف استعمال ہونے لگے۔ موجودہ زمانہ میں بگاڑ کی یہ علامت مسلمانوں میں پوری طرح نمایاں ہو چکی ہے۔ آج ان میں ایسے مذہبی مسائل اور سیاسی نظریات فروغ پا رہے ہیں جو انہیں باہم حریف بنا کر ایک دوسرے سے ٹکرا دیں۔ ان میں ایسے لیڈر اٹھ رہے ہیں جو خود اپنے ملک کو فتح کر کے اس کے اوپر اپنی کامرانی کا جھنڈا لہرائیں ۔ ان میں ایسے بہادر ابھر رہے ہیں جو خود اپنی قوم کے اداروں پر دھاوا بول کر ان پر قبضہ کر لیں اور ان کے اموال کو اپنے لئے غنیمت بنالیں ۔ ان میں ایسے مفکرین اور مدبرین پیدا ہورہے ہیں جو اپنی قوم کے کچھ لوگوں کو ” برائی کی علامت قرار دے کر ان کے خلاف محاذ آرائی کریں اور ان کے قتل و غارت کا منصوبہ بنائیں۔ ان میں ایسی جماعتیں وجود میں آرہی ہیں جو خود اپنی قوم کی دوسری جماعتوں کی بیخ کنی کو نشانہ بنا کر کام کریں غرض پوری قوم بے شمار گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ ہر شخص جس کے پاس کچھ طاقت ہے وہ اپنے بھائی کو اس کا مزہ چکھانے کے لئے بے قرار نظر آتا ہے۔ آج پوری امت، فرد سے لے کر گروہ تک، باہمی تصادم میں مشغول ہے۔ ملت کے افراد کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوم کے آدمی کو برداشت کر سکتے ہیں مگر اپنی قوم کے آدمی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسری اقوام کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے ہر ایک بزدل ہے ، مگر اپنی قوم سے لڑنے کے لئے ہر ایک بہادر بنا ہوا ہے۔ امت مسلمہ کی طاقت جو اغیار کے استیصال کے لئے تھی وہ خود ساختہ الفاظ بول کر خود اپنی قوم کے لوگوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ یہ بلاشبہ خدا کے غضب کی علامت ہے، خواہ ہم بطور خود اس کو خدا کی رحمت قرار دے کر خوش ہورہے ہوں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page