اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
لفظی کمالات کی کوئی بھی مقدار علی کو تباہی کا بدل نہیں بن سکتی ۔ اگر آپ خود معمولی اخلاقیات کی سطح پر ہوں تو محض الفاظ کے زور سے دوسروں کو غیر معمولی اخلاقیات کی سطح پر نہیں لا سکتے ۔ اس قسم کی تقریری مہم صرف ایک مسخرہ پن ہے اور مسخرہ پن نے کبھی اس زمین پر کوئی تاریخ نہیں بنائی ہے ۔ جو چیز لوگوں کے درمیان فسادیا بگاڑ پیدا کرتی ہے وہ معمولی حالات نہیں ہیں بلکہ غیر معمولی حالات ہیں۔ عام حالات میں لوگ ہمیشہ ٹھیک ہی رہتے ہیں ۔ مگر اجتماعی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسے مواقع آتے ہیں جب کسی کو کسی سے تکلیف پہنچ جائے۔ بس یہیں سے فساد شروع ہو جاتا ہے ۔ ٹھیس پہنچتے ہی آدمی کے اندر کا شیطان جاگ اٹھتا ہے۔ وہ غصہ اور نفرت میں اندھا ہو جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ جو کچھ وہ اپنے حریف کے خلاف کر سکتا ہے کر گزرے ۔ ہر آدمی کے اندر ایک سانپ ہے۔ عام حالات میں وہ سویا ہوا ہوتا ہے ۔ مگر وہ اس وقت جاگ اٹھتا ہے جب اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے ۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صبر اور اللہ کا خوف ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس معاملہ میں قوم افلاس کے جس مقام پر ہے ٹھیک وہی حال خود ہمارے واعظوں اور رہنماؤں کا بھی۔ ہے ۔ آپ کسی رہنما کے ساتھ نیاز مندی دکھائیے ، اس کی قبائے عظمت کا نمکہ بنے رہے تو وہ آپ سے خوش رہے گا ۔ لیکن اگر آپ اس پر تنقید کریں ، اس کی برتری کو مجروح کرنے کی کوشش کریں تو اچانک آپ دیکھیں گے کہ اس کے اندر کا سانپ جاگ اٹھا ہے۔ اس کے بعد کم از کم آپ کے مقابلہ میں وہ اپنا انسانی لبادہ اتار پھینکے گا ۔ اگر آپ اس کے ادارہ میں ہیں تو آپ کو ذلیل کر کے وہاں سے نکال دیا جائے گا ۔ آپ کے دوستوں اور ملاقاتیوں تک کی بے عزتی کی جائے گی ۔ رہنما کے زیر اثر پریس کے لیے آپ بالکل بے قیمت انسان بن جائیں گے۔ آپ کو نقصان پہنچانا عین جائزہ قرار پائے گا۔ ایک ایسے بے دین شخص کا استقبال وہ پسند کرے گا جس سے اس کی ایچ میں اضافہ ہوتا ہو۔ مگر آپ سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنا بھی اس کو گوارا نہ ہوگا ۔ اس کی نظر میں آپ کے علم و تقویٰ کی قیمت نہ ہوگی ۔ اس کے برعکس بے دین لوگ اس کے لیے قیمت والے ہوں گے کیوں کہ دہ اس کی شان میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔ قوم کا اگر یہ حال ہے کہ وہ عام حالات میں ٹھیک رہتی ہے اور جب کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آ جائے تو پھر کر فساد کرنے لگتی ہے تو ہمارے رہنما بھی اپنے دائرہ میں اسی کردار کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ پھر وہ قوم کے اوپر انسانیت اور اخلاق کے واعظ کس طرح بن سکتے ہیں ۔ ” ایک سونے والا دوسرے سونے والے کو کیوں کر جگا سکتا ہے “ جو لوگ اپنے نیاز مندوں کے لئے شریف ہوں اور اپنے مخالفین کے لئے سانپ بنے ہوئے ہوں وہ دوسروں سے کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ تم اپنے مخالفین کے لئے سانپ نہ بنو بلکہ ان کے ساتھ انسانیت اور اخلاق کا یہی برتاؤ کرو جو تم اپنے دوستوں کے ساتھ کرتے ہو۔ خود معمولی اخلاقی کی سطح پر ہونا اور رد دوسروں کو غیر معمولی اخلاق کا وعظ سنانا، ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا ہے جس کو آدمی نے کیا نہیں (آل عمران (۱۸۸) اس قسم کی روش خدا کے غضب کو بھڑکانے والی ہے نہ کہ وہ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں کو نازل کرنے کا سبب بنے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader