Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

الفاظ ختم نہیں ہوتے غالباً ۱۹۷۵ء کا واقعہ ہے۔ میں لکھنو میں حضرت گنج کے پاس سڑک پر جا رہا تھا۔ میں فٹ پاتھ پر تھا۔ قریب ہی ایک آدمی سڑک کے کنارے بائیں طرف چل رہا تھا۔ اتنے میں ایک موڑ آیا۔ آدمی موڑ پر تھا کہ عین اسی وقت پیچھے سے ایک سائیکل آگئی۔ ایک نوجوان تیزی سے سائیکل دوڑاتا ہوا موڑ پر پہنچا۔ سائیکل قابو میں نہ آسکی اور راہ گیر سے ٹکرا گئی۔ راہ گیر سڑک پر گر گیا۔ سائیکل بھی رک گئی۔ راہ گیر اٹھا۔ وہ ایک بوڑھا آدمی تھا۔ اس نے نوجوان کو غور سے دیکھا۔ اس کے بعد راہ گیر اور نوجوان کے درمیان جو گفت گو ہوئی وہ یہ تھی : گھنٹی کیوں نہیں بجائی ــــ راہ گیر نے کہا۔ گھنٹی نہ ہو تو ــــ نوجوان نے جواب دیا۔ بریک کیوں نہیں لگایا۔ بریک نہ ہو تو ۔ جب تمہارے پاس گھنٹی نہیں ، بریک نہیں ، تو تم سائیکل تیز کیوں دوڑاتے ہو کیا تم سے پوچھ کر دوڑاؤں ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر چپ ہو نا نہ چاہے تو کسی بھی دلیل سے اس کو چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کے جواب میں الفاظ کا ایک مجموعہ بولتا رہے گا۔ یہاں تک کہ آپ خود ہی چپ ہو جائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دلیل کو ماننے کے لئے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ غیر سنجیدہ آدمی کو کسی بھی دلیل سے قائل کرنا ممکن نہیں۔ موجودہ دنیا افتنہ کی دنیا ہے۔ اور دنیا کا سب سے بڑا فتنہ الفاظ ہیں۔ اس دنیا میں آدمی ہر بات کے جواب میں الفاظ پال لیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو مطمئن کر لیتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جب تک سنجیدہ نہ ہو اس کو سمجھایا نہیں جا سکتا۔ مثلاً آپ ایک آدمی سے کہیں کہ ٹیپوسلطان کی فوج نے آخر وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ صرف تھوڑے سے آدمی ٹیپو کے ساتھ رہ گئے تھے۔ دوسری طرف انگریز جنزل کے پاس بہت بڑی فوج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page