اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
گروہ بندی ائمہ اربعہ نے ضرورت کے احساس کے تحت بہت سے مسائل وضع کئے۔ مگر وہ کتاب اور سنت ہی کو دین کا اصل مرجع سمجھتے تھے۔ ان کو کبھی گمان نہ تھا کہ ان کے وضع کردہ مسائل دین کا مقام حاصل کر لیں گے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ ہمارے قول پر فتویٰ دے بغیر اس کے کہ اس کو ہماری دلیل کا علم حاصل ہو (لا یجوز لاحد ان یقول قولنا من غیر ان یعرف دلیلنا) مگر بعد کے زمانہ میں یہ صورت باقی نہ رہی حتیٰ کہ وہ وقت آیا کہ لوگ بس اپنے امام کے قول کو سب کچھ سمجھنے لگے۔ انسانی فقہ نے خدائی شریعت کی جگہ لے لی۔ اب امام کو زخمی کو دیکھنے کی جرأت ہوئی کہ ہر آیت یا حدیث جو اس سے ٹکراتی ہو جس پر ہمارے اصحاب ہیں وہ یا تو قابل تاویل ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔ (کل آیة او حدیث يخالف ما عليه اصحابنا فهو مؤول او منسوخ ، فقه السنة، مجلد اول ، صفحه ۱۳) جب قوم پر گراوٹ کا یہ دور آتا ہے اسی وقت اس کے اندر تخرب پیدا ہو جاتا ہے۔ ہر ایک اپنے مسلک کو اصل دین سمجھنے لگتا ہے۔ قوم مختلف قسم کے محارب فرقوں میں بٹ جاتی ہے۔ دین کا اصل سرا لوگوں کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ ہر ایک کا وہ حال ہو جاتا ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے : وتقطعوا امرهم بينهم زبراً كل حزب بما لديهم فرحون) تاہم اس کی ذمہ داری ائمہ پر نہیں، ان کے بعد کے متبعين پر عائد ہوتی ہے۔ بعد کے لوگوں نے اپنے اپنے مذاہب فقہ کو صحیح ثابت کرنے اور دوسرے کو غلط قرار دینے کے لیے جو غلو کیا وہ ہرگز کسی امام کا مسلک نہ تھا۔ یہاں ہم مختلف ائمہ کے خیالات ان کے اپنے الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ائمہ کا اپنا خیال اپنے مسلک فقہ کے بارے میں کیا تھا، اور بعد کے لوگوں نے اس کو کیا کر دیا۔ ائمہ کے اقوال مامنا الا من يخطئ ويرد علیه الا المعصوم ہم میں سے ہر شخص غلطی کرتا ہے اور ہم میں سے ہر شخص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader