اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
صلى الله عليه وسلم ( الامام مالك ) اذا صح الحديث فهو مذهبی ۔ وا ضربوا بقولی عرض الحائط (الامام الشافعی) لاحجة فی قول احد دون رسول الله صلى الله عليه وسلّم ( الامام الشافعی) لا ينبغی لمن لا يعرف دليلی ان يفتى بكلامی۔ ( وكان اذا افتی یقول ) هذا رائی النعمان بن ثابت وهو احسن ما قدرنا عليه فمن جاء با حسن منه فهو اولى بالصواب (الامام ابو حنيفه) لا تقلدی ولا تقلّد مالكاً ولا الشافعی ولا الاوزاعی ولا النخعی ولا غيرهم (الامام احمد بن حنبل) کی کوئی بات قابلِ رد ہو سکتی ہے۔ سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو کہ معصوم ہیں۔ جب حدیث سے ثابت ہوجائے تو وہی میرا مسلک ہے۔ اس کے بعد میرے قول کو دیوار پر مار دو۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کا قول حجت نہیں۔ جو شخص میری دلیل کو نہ جانے اس کے لئے درست نہیں کہ وہ ہمارے قول پر فتویٰ دے۔ ابو حنیفہ جب کسی مسئلہ میں فتویٰ دیتے تو کہتے کہ یہ نعمان بن ثابت کی رائے ہے۔ ہمارے علم کے مطابق یہ احسن ہے۔ جو شخص اس سے زیادہ احسن کو پائے تو اس کے بعد وہی زیادہ احسن ہے۔ تم میری تقلید نہ کرو اور نہ مالک اور شافعی اور اوزاعی اور نخعی یا کسی اور کی تقلید کرو۔ منار الاسلام صفر ۱۴۰۴ھ (نومبر ۔ دسمبر ۱۹۸۳ء) ائمہ اربعہ کے ان اقوال سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک اصل چیز قرآن اور سنت تھی۔ وہ اس کو سراسر غلط سمجھتے تھے کہ کوئی شخص ان کا مقلد بن جائے اور کتاب وسنت سے براہ راست دین اخذ نہ کرے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعد کے دور میں جو تقلید رائج ہوئی اس کا خود ائمہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ موجودہ روایتی تقلید کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ قرآن وسنت کے ساتھ آدمی کا زندہ رشتہ قائم نہیں رہتا۔ قرآن وسنت مومن کی غذائیں ہیں۔ مگر مروجہ تقلید کے بعد قرآن وسنت یا تو کسی تقلیدی مسلک کو صحیح ثابت کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں یا برکت اور تقدس حاصل کرنے کے لئے۔ قرآن وسنت کے نام پر آدمی ۔۔۔۔ قرآن وسنت سے دور ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader