اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کر پاتے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو آدمی زیادہ جوشیلی تقریر کرتا ہے ۔ جو بڑے بڑے الفاظ بولنا جانتا ہے ۔ جو جھوٹی آرزوؤں اور فرضی خوش فہمیوں میں جینے کی خوراک فراہم کرتا ہے ، اس کے پیچھے ان کی بھیڑ دوڑ پڑتی ہے۔ کیونکہ وہ اپنی بے شعوری کی بنا پر لفظ اور حقیقت میں فرق کرنے کی تمیز نہیں رکھتی ۔ ایسی حالت میں کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو باشعور بنایا جائے جس دن مسلمان ایک باشعور گروہ بن جائیں گے اسی دن ناکارہ قیادت اپنی زمین کھود دے گی اور پھر وہ اپنے آپ ختم ہوکر رہ جائے گی نکمی قیادت کو ختم کرنا ہے تو مسلمانوں کے بے شعور پن کو ختم کیجئے ۔ اس مسئلہ کا حل بالواسطہ طریق کار میں ہے نہ کہ براہ راست طریق کار میں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی کے لیے اس کی فطرت سب سے بڑی اور سب سے بہتر رہنما ہے ۔ چھوٹے لبھڑ آدمی کو اس کی فطرت کے راستہ سے ہٹاتے ہیں اگر یہ نام نہاد لیڈر سامنے نہ رہیں تو ہر آدمی کی فطرت جاگ اٹھے گی ۔ اور جب فطرت زندہ اور بیدار ہو تو کسی رہنما کی کوئی ضرورت نہیں ۔ مسلمانوں کے سلسلہ میں اس وقت کرنے کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ یہ شکوہ کیا جائے کہ ان کے درمیان تعمیری اور مثبت قسم کی لیڈر شپ نہیں ہے ۔ بلکہ اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر تعمیری اور مثبت ذہن بنایا جائے تاکہ ان کے درمیان تعمیری اور مثبت لیڈر شپ ابھر سکے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ : كما تكونوا كذلك يؤمّن عليكم - یعنی جیسے تم ہوگے ویسے ہی تمہارے لیڈر ہوں گے ۔ موجودہ زمانہ میں جو غیر صحیح لیڈر شپ مسلمانوں کے اوپر مسلط ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خود مسلمان کا مزاج غیر صحیح ہے ۔ اگر مزاج صحیح ہو جائے تو ان کے درمیان لیڈر شپ بھی صحیح قسم کی ابھرے گی ۔ ہمارے کرنے کا اصل کام مزاج سازی یا ذہنی تعمیر ہے ۔ بقیہ چیزیں جو ہم چاہتے ہیں وہ اسی کا نتیجہ ہیں ۔ اس بنیادی کام کے بغیر ان کو حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader