Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

مسئلہ کا حل مولانا سعید احمد اکبر آبادی (۱۹۸۵ - ۱۹۰۸) اپنی آخر عمر تک ماہنامہ "برہان" (دہلی) کے ایڈیٹر تھے۔ انھوں نے ایک بار اپنے اداریہ کے صفحات میں لکھا تھا : ” ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی جو معاشیات میں ڈاکٹر ہیں، وہاں مسلمان طلباء کی انجمن کی دعوت پر اسلام پر مختلف مراکز میں لکچر دینے کی غرض سے امریکہ گئے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں شکاگو سے ان کا ایک خط آیا ہے جس میں تحریر فرماتے ہیں: ہندوستان میں گزشتہ پچیس برس میں ہم نے (مسلمانوں نے) احتجاج کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ لیکن یہاں کے مسلمان مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس مدت میں ہم نے کوئی تعمیری (positive) اور مثبت کام بھی کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو وہ کیا ہے؟ یہ سن کر سخت شرمندگی ہوتی ہے، آپ از راہ کرم اس پر توجہ کیجئے۔ راقم الحروف نے اس کے جواب میں ڈاکٹر نجات اللہ صاحب کو لکھا ہے کہ آپ نے یہ وہی بات لکھی ہے جس کو میں شروع سے کہتا اور لکھتا چلا آرہا ہوں، لیکن افسوس، یہاں کے مسلمانوں میں اجتماعی اور قومی سطح پر مثبت اور تعمیری کام کرنے کا کوئی جذبہ ہی نہیں ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لیڈر شپ بالکل نکمی اور ناکارہ ہے، اس کے پاس نہ دل ہے نہ دماغ۔ ہواؤں پر اُڑاتی اور جلسوں جلوسوں پر جینی ہے۔“ (برہان، دہلی، اکتوبر ۱۹۸۷ء) ان سطروں کے لکھے اور چھپے ہوتے ۲۰ سال ہو گئے۔ یہاں تک کہ وہ وقت قریب آگیا جبکہ ”۲۵ سال“ کی کہانی کو ”۵۰ سال“ کی کہانی کا عنوان دیا جاتے مگر وہی صورت حال بدستور ابھی تک باقی ہے۔ اس میں اضافہ کی نشاندہی تو کی جاسکتی ہے مگر اس میں کمی کی کوئی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔ یہ بات بذات خود صحیح ہے کہ لیڈر شپ کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے مگر یہاں دوبارہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے درمیان ایسے لوگ آخر لیڈر کیسے بن جاتے ہیں جو بالکل نکمے اور ناکارہ ہوں۔ ایسے لوگوں کو ملت کے کوڑا خانہ میں جگہ ملنی چاہیے نہ یہ کہ ملت کے قیادت کی اسٹیج پر اُنھیں بٹھایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ مسلم سماج کی بے شعوری ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان بے شعوری کی سطح پر ہی رہے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page