Urdu book · تصویر ملت

اخلاق کا معیار

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاق کا معیار قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کسی سے تمہاری دشمنی ہو جائے تو تم ایسا مت کرو کہ اس کے ساتھ بے انصافی کرنے لگو، بلکہ تم ہر حال میں انصاف کرو۔ یہی بات تقویٰ کے مطابق ہے (لا یجرمنکم شنآن قوم علی ان لا تعدلوا اعدلوا هو اقرب للتقوى ) مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے : یعنی کسی کا بغض تم کو نہ ابھارے کہ اس کے معاملہ میں تم انصاف کو چھوڑ دو۔ بلکہ ہر ایک کے معاملہ میں انصاف کرو خواہ وہ دوست ہو یا دشمن (ای لا یحملنکم بغض قوم علی ترك العدل فيهم بل استعملوا العدل في كل احد صديقاً كان او عدواً) اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ موجودہ دنیا میں تقویٰ کا سب سے زیادہ یقینی معیار ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان معتدل تعلقات ہوں تو دونوں بالکل ٹھیک نظر آتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں اعلیٰ اخلاق پر قائم ہیں ۔ مگر کسی کے اخلاق کو جانچنے کا یہ صحیح معیار نہیں کوئی شخص اخلاقی اعتبار سے کیسا ہے ، اس کا اندازہ معتدل حالات میں نہیں ہوتا ۔ اس کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ دونوں کے درمیان تلخی اور شکایت کی فضا پیدا ہو گئی ہو۔ ایک پھل اندر سے کیسا ہے ، اس کا اندازہ آپ پھل کے چھلکے کو دیکھ کر نہیں کر سکتے ۔ اس کا پتہ صرف اس وقت چلتا ہے جب کہ پھل کو توڑا جائے ۔ اسی طرح کوئی انسان حقیقتہ کیا ہے ، اس کا اندازہ معمول کے حالات میں نہیں ہوتا ، بلکہ غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے ۔ جب آدمی کے ساتھ کوئی خلاف مزاج واقعہ پیش آتا ہے ، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کیا تھا اور کیا نہیں تھا۔ عام حالات میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے رہتا ہے ۔ مگر جب اس کی شخصیت کو کوئی شدید جھٹکا لگتا ہے اس وقت اس کا اندر اس کے باہر آ جاتا ہے ۔ اس وقت کھل جاتا ہے کہ وہ شریف تھا یا غیر شریف ۔ وہ بے اخلاق تھا یا با اخلاق ۔ جس شخص سے آپ کا بگاڑ نہیں ہوا اس سے خوش اخلاقی برت کہ آپ خدا کے نزدیک خوش اخلاق نہیں ہو سکتے ۔ خدا کے نزدیک آپ اس وقت خوش اخلاق قرار پائیں گے جب کہ آپ اس شخص کے معاملہ میں خوش اخلاق ثابت ہوں جس سے آپ کا بگاڑ پیدا ہو چکا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page