زمانہ کا فرق
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانہ کا فرق چمگادڑ کی عادت ہے کہ وہ عام چڑیوں کی طرح نہیں بیٹھتا ۔ بلکہ بیٹھنے والی جگہ کو پیروں سے پکڑ کر لٹک جاتا ہے ۔ چمگادڑ کی یہ عادت قدیم زمانہ میں اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھی ۔ وہ شاخ یا اس قسم کی دوسری چیزوں پر لٹکتا اور پھر جب چاہتا اُڑ جاتا ۔ مگر اب بجلی کے زمانہ میں چمگادڑ کی یہ عادت اس کے لیے موت کا سبب بن گئی ہے ۔ عام چڑیاں اب بھی بجلی کے تار پر بیٹھتی ہیں اور اُڑ جاتی ہیں ۔ مگر چمگادڑ بجلی کے تار پر آتا ہے تو وہ اس کے لیے موت کا پیغام ثابت ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بجلی کا صرف ایک تار چھونا خطر ناک نہیں ہے ۔ خطر ناک یہ ہے کہ اس کے دونوں تاروں کو بیک وقت چھوا جائے ۔ عام چڑیاں صرف ایک تار پر بیٹھتی ہیں ۔ ان کا تعلق دوسرے تار سے ہونے نہیں پاتا اس لیے وہ محفوظ رہتی ہیں ۔ اس کے برعکس چمگادڑ اپنی عادت کی وجہ سے تار کو پکڑ کر لٹکتا ہے ۔ قدرتی طور پر اس کا جسم دوسرے تار کو بھی چھونے لگتا ہے ۔ اس کی وجہ سے شارٹ سرکٹنگ ہوتی ہے اور وہ مر جاتا ہے ۔ چمگادڑ کے لیے یہ عذر ہے کہ اُس کو زمانہ کے اِس " فرق " کا پتہ نہیں ۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی غلطی اکثر وہ انسان کرتا ہے جس کو اس کے پیدا کرنے والے نے عقل اور شعور دیا ہے ۔ وہ زمانہ کے فرق کو جاننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اس طرح عمل کرتا ہے جیسے وہ چمگادڑ ہے نہ کہ عقل و ہوش والا انسان ۔ موجودہ زمانہ میں جو فرق پیدا ہوئے ہیں ، ان میں سے ایک فرق یہ ہے کہ آج کا زمانہ کسی انسان کو اظہار رائے کی مکمل آزادی دیتا ہے ۔ مگر تشدد کو وہ مکمل طور پر جرم قرار دیتا ہے ۔ ماضی میں یہ فرق اتنی واضح صورت میں موجود نہ تھا ۔ اب جو لوگ اس فرق کو سمجھیں وہ امن کے دائرہ میں رہ کر اپنا کام کریں گے ، وہ تشدد کے دائرہ میں داخل نہ ہوں گے اور اس طرح کامیاب رہیں گے ۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے ماضی کے ذہن کی بنا پر اس فرق کو نہ سمجھیں وہ اپنی جد و جہد میں اس کو ملحوظ نہ رکھیں گے ۔ وہ امن کے دائرہ سے گزر کر تشدد کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گے ، اور نتیجہ ناکامی سے دوچار ہوں گے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader