Urdu book · تصویر ملت

زمانہ کا فرق

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتراف فتح مکہ کے بعد جب عرب پر اسلام کا غلبہ ہوگیا اور اکثر قبائل اسلام میں داخل ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتوں کے خاتمہ کی مہم شروع کی۔ اس سلسلہ میں ایک مہم وہ تھی جو سُواع کی طرف سے بھیجی گئی۔ ہذیل بن مُدرکہ بن الیاس بن مُضر نے زمانۂ جاہلیت میں ایک بت بنایا تھا جو سُواع کہا جاتا تھا، اس بت کو انھوں نے رباط (ینبوع) میں رکھا تھا۔ رمضان 8ھ میں حضرت عمرو بن العاص سُواع کو منہدم کرنے کے لیے بھیجے گئے۔ یہ مقام مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر تھا۔ عمرو بن العاص جب وہاں پہنچے تو اس بت کے مجاور نے ان سے پوچھا کہ تم کس ارادہ سے یہاں آئے ہو۔ عمرو بن العاص نے جواب دیا کہ میں خدا کے رسول کے حکم سے یہاں آیا ہوں تاکہ اس بت کو منہدم کر دوں۔ مجاور کے ذہن پر سُواع کی عظمت اتنی زیادہ چھائی ہوئی تھی کہ اس نے کہا کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو گے۔ سُواع تم کو ضرور اس سے روک دے گا۔ عمرو بن العاص نے کہا کہ افسوس ہے تمہارے اوپر، تم اب تک اسی وہم میں پڑے ہوئے ہو ۔ کیا یہ بت سنتا ہے اور دیکھتا ہے جو وہ مجھ کو روک دے گا۔ یہ کہہ کر انھوں نے سُواع پر ایک ضرب لگائی اور بت ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ یہ منظر مجاور کے لیے بالکل خلاف توقع تھا۔ بت کے ٹوٹنے کے ساتھ اس کے خیالات کا طلسم بھی ٹوٹ گیا ۔ وہ پکار اٹھا: اَسلمتُ لِلّٰہ ۔ اور اسی وقت شرک کو چھوڑ کر دینِ توحید (اسلام) میں داخل ہوگیا۔ حق کو نہ ماننے والے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو تعصب اور نفسانیت کی وجہ سے حق کو نہ مانیں ۔ دوسرے وہ جو غلط فہمی کی وجہ سے حق کو نہ مانیں ۔ پہلی قسم کے لوگوں کو کبھی حق کا اعتراف کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔ مگر دوسری قسم کے لوگوں کا نہ ماننا وقتی ہوتا ہے۔ وہ نہ سمجھنے کی وجہ سے انکار کر رہے تھے ، اس لیے جب بات کو دلیل سے واضح کر دیا جائے تو وہ فوراً حق کو پالیتے ہیں اور اپنی پچھلی روش کو چھوڑ کر اس کے آگے جھک جاتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page