قضا و قدر
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
قضا و قدر مارک ٹوین, (Mark Twain) ایک انگریزی ادیب اور ناول نگار تھا۔ وہ ۱۸۳۵ میں امریکہ میں پیدا ہوا ۔ اور وہ ہیں ۱۹۱۰ میں اس کی وفات ہوئی ۔ اس نے اپنی آخر عمر میں ایک بار کہا کہ اب میں ایک بوڑھا آدمی ہوں ۔ اور اپنی زندگی میں بہت سی چیزوں کے لیے فکر مند ہوا ہوں ۔ مگر ان میں سے زیادہ تر کبھی وقوع میں نہیں آئیں : I am an old man and have known a great many troubles, but most of them never happened. راقم الحروف کا تجربہ بھی یہی ہے ۔ میں نے اپنی زندگی میں اور دوسروں کی زندگی میں بہت سے ایسے مواقع دیکھے ہیں جب کہ ایک آدمی کسی صورت حال کے پیش آنے کی وجہ سے سخت پریشان ہو گیا ۔ حتیٰ کہ مستقبل کے اندیشہ کی بنا پر اس نے اپنے حال کو برباد کر لیا ۔ غم سے نڈھال ہو کر اپنی صحت تباہ کر لی ۔ مگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اندیشہ بجائے خود صحیح نہ تھا جس کی وجہ سے آدمی نے اپنے آپ کو اتنا زیادہ پریشانی میں مبتلا کیا تھا ۔ اسلام میں اس کا بہترین حل قضا و قدر کا عقیدہ ہے ۔ مفصل کلمہ میں یہ بات بطور ایمان شامل کی گئی ہے کہ خیر اور شر دونوں اللہ کی طرف سے آتے ہیں ( وبالقدر خیرہ وشره ) " کوشش کرنا بندہ کا کام ہے ، اور تکمیل تک پہنچانا اللہ کا کام " اور یہ کہ " جو کچھ ہوتا ہے ، اللہ کی طرف سے ہوتا ہے " یہ عقیدہ انسان کے لیے موجودہ دنیا میں ایک بے حد عظیم تحفہ ہے ۔ وہ انسان کے اندر یہ طاقت پیدا کرتا ہے کہ وہ نقصان کو سہہ اور حادثات کو برداشت کر سکے ۔ موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنی ہے ۔ اس لیے یہاں عین اس کے تخلیقی نقشہ کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی زندگی میں ناموافقت حالات پیش آتے ہیں ۔ اس کو نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ ایسی حالت میں اگر یہ عقیدہ آدمی کے اندر بیٹھ جائے کہ جو ہوا وہی ہونے والا تھا، اس کے سوا کچھ اور ہونا ممکن نہ تھا تو آدمی کی زندگی نہایت سکون بن جائے ، وہ راضی برضا ہو کر ہر حال میں پوری طرح مطمئن رہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader