Urdu book · تصویر ملت

حاکم اور محکوم

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

حاكم اور محكوم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔ ان سے پہلے ابو بکر رض اور حضرت عمر کے زمانہ میں حالات درست تھے، مگر حضرت علی کے زمانہ میں حالات بگڑ گئے۔ اس سلسلہ میں ایک شخص سے آپ کی گفتگو اس طرح نقل کی گئی ہے : سأَلَ رَجُلٌ عَلِيّاً رضي الله عنه ما بالُ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مسلمانوں المسلمين اختلفوا عليك ولم يختلفوا کا کیا حال ہے کہ وہ آپ سے اختلاف کر رہے على أبي بكر وعمر - فقال : لأن أبابكر ہیں حالانکہ انھوں نے ابو بکر اور عمر سے اختلاف وعمر كانا واليين علی مثلي و انا نہیں کیا تھا۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس لیے کہ اليوم والٍ على مثلكُ ، يُشيرُ ابو بکر اور عمر میرے جیسے کے اوپر حاکم تھے اور إلى وازعِ المدین (مقدمہ ابن خلدون (۲۱) میں آج تمہارے جیسے کے اوپر حاکم ہوں۔ ان کا اشارہ لوگوں کے دینی رجحان کی طرف تھا۔ خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت صالحہ کس طرح وجود میں آتی ہے۔ اور اس کے قیام کے اصول و شرائط کیا ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح نظام حکومت قائم ہونے کے لیے صرف صالح حکمراں کا ہونا کافی نہیں ۔ بلکہ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ ماتحت عوام میں بتدریج ضرورت صلاح کی کیفیت پائی جارہی ہو۔ اس قول کے مطابق ، خلیفہ اول اور خلیفہ ثانی کی کامیاب حکومت کا راز یہ تھا کہ ان کے زمانہ میں اصحاب رسول بڑی تعداد میں موجود تھے اور معاشرہ پر انھیں کا مزاج غالب تھا۔ مگر خلیفہ چہارم کے زمانہ میں نومسلموں کی کثرت کے بعد اصحاب رسول اقلیت بن گئے اور معاشرہ پر ان لوگوں کا غلبہ ہو گیا جو اصحاب رسول جیسا نہ ہن اور مزاج نہیں رکھتے تھے۔ حکمران افراد کی تبدیلی سے پہلے معاشرہ کے افراد کی تبدیلی ضروری ہے ۔ معاشرہ اگر برا ہو تو صحابی رسول جیسے حکمران کی موجودگی بھی صالح نظام کے قیام کی ضمانت نہیں بن سکتی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page