Urdu book · تصویر ملت

زوال کی علامت

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

زوال کی علامت پاکستان کے بزرگ صحافی ”مش “اپنی یادداشتیں شائع کر رہے ہیں۔ اس کی ایک قسط نوائے وقت (۲۱ جنوری ۱۹۹۲) میں چھپی ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں: ”میرا تجربہ یہ ہے کہ ہندو اپنے لوگوں کو خواہ وہ مٹی کے بت ہی کیوں نہ ہوں اپنا دیوتا بنا لیتے ہیں۔ ہندو اخبارات (قبل از تقسیم زمانہ میں) کسی کو مہاتما، کسی کو بھارت پرش، کسی کو دیوتا سر وپ کے القاب سے یاد کیا کرتے تھے۔ لیکن مسلم اخبارات ان سے اختلاف رائے رکھنے والے کو ٹوٹو یا جھولی چک کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ پنڈت مالویہ کانگریس کے مخالف تھے لیکن کسی ہندو اخبار نے انہیں غدار نہیں کہا تھا۔ بلکہ انہیں پوجیہ پاد کے خطاب سے یاد کیا جاتا تھا۔ ہمارے مذہبی طبقوں میں جس طرح تکفیر کارواج ہے اسی طرح سیاسی دنیا میں اختلاف رائے کو غداری سے محمول کیا جاتا ہے۔ ہندوؤں کے مقابلہ مسلمانوں میں انفرادی حیثیت میں بے حد قد آور شخصیات تھیں لیکن مسلمان حریفوں نے ہمیشہ ان کا چراغ بجھانے کی کوششیں روا رکھیں۔ سرسید احمد خاں پر کفر کے فتوے لگے۔ ہر میاں محمد شفیع کو ہمیشہ توڈی کہا گیا۔ اقبال کے متعلق کہا گیا کہ : سرکار کی دہلیز پر سر ہو گئے اقبال۔ قائد اعظم کو کافر اعظم کہہ کر یاد کیا گیا۔ عبد الغفار خاں کو عبد الكفار خاں کے نام سے یاد کیا گیا۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی کو گالیوں سے نوازا گیا۔ (صفحہ ۸) یہی انداز آج بھی جاری ہے۔ موجودہ دور پریس کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم علما اور دانشور حقیقی تنقید سے واقف ہی نہیں۔ وہ تنقید کے نام سے صرف تنقیص کو جانتے ہیں۔ مسٹر اور مولوی، مقدس اور غیر مقدس، بے ریش اور بارش، اصاغر اور اکابر سب کا یہ حال ہے کہ جہاں کسی سے اختلاف ہوا فوراً اس کے خلاف وہ سب دشمن کی زبان بولنے لگیں گے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ پر یہ انداز اتنا زیادہ چھا چکا ہے کہ اب ان کی بظاہر علمی تنقید بھی حقیقتاً سب دشمنی ہی کی ایک بدلی ہوئی صورت ہوتی ہے۔ کسی قوم میں یہ مزاج اس کے زوال یافتہ ہونے کی آخری علامت ہے۔ زوال یافتہ قوم کی خاص پہچان یہ ہے کہ اس کے پاس اظہار خیال کی صرف دوزبان رہ جاتی ہے۔ یا قصیدہ خوانی یا الزام تراشی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page